خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 313
خطابات شوری جلد سوم ۳۱۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء مجلس مشاورت کے دوسرے دن اختتامی اجلاس میں تلاوت قرآن کریم معركة الأراء تقرير کے بعد حضور نے ایک معرکۃ الآراء تقریر فرمائی۔آپ نے فرمایا:۔بجٹ کی بحث کے دوران میں اختر صاحب نے کہا ہے کہ اضافہ بجٹ اضافہ بجٹ کے وقت اُن اضافوں کو مد نظر نہیں رکھا گیا جو میری تحریک کی بناء پر بعض مخلص نو جوان اپنے چندوں میں کر رہے ہیں۔نائب ناظر صاحب بیت المال نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ ایسے بہت کم لوگ ہیں اور جن لوگوں نے اپنے چندوں میں اضافہ بھی کیا ہے انہوں نے تفصیلی طور پر اپنی آمد اور چندہ کی نسبت ظاہر نہیں کی اس لئے ہم پورے طور پر اس اندازہ کو شامل نہیں کر سکے۔جہاں تک اضافہ کا سوال ہے ہمیں یہ عمل نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ جہاں بعض لوگوں نے اضافہ کیا ہے وہاں ہزاروں ہزار افراد جماعت کے ایسے بھی ہیں جن کی آمد نہیں اس سال تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں اور وہ لوگ اپنی جائدادوں سے بے دخل ہو کر مغربی پنجاب میں آگئے ہیں یا سندھ اور بہاولپور وغیرہ میں چلے گئے ہیں اور اس وقت اُن کے گزاروں کی کوئی صورت نہیں۔میرا اندازہ ہے کہ مشرقی پنجاب سے آنے والے احمدیوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب ہے اور یہ ایک لاکھ اپنے گھروں سے بے گھر اور اپنی آمدنیوں سے محروم ہے مغربی پنجاب میں اس کے متعلق جو کوشش کی گئی ہے وہ میرے نزدیک بہت حد تک اُن حالات میں جن حالات میں سے حکومت اُس وقت گزر رہی تھی قابل قدر تھی۔جو لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ حکومت نے کوتا ہی سے کام لیا وہ میرے نزدیک غلطی کرتے ہیں لیکن جہاں تک بسانے کا سوال ہے اُس میں میرے نزدیک بہت سی غلطیاں ہوئیں۔اول بسانے کا فیصلہ علاقہ وار نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے واپس جانے کے وقت لوگ آسانی سے واپس نہیں لیجائے جاسکیں گے۔دوسرے ان فیصلوں میں طرفین کے حقوق کو نگاہ میں نہیں رکھا گیا۔پھر فیصلہ کا انڈین یونین کے آدمیوں کو حق دیدیا گیا ہے اور پاکستان کے لوگوں کے حقوق نظر انداز کر دیئے گئے ہیں آخر یہ تو نہیں کہ اس میں ان لوگوں کا کوئی فائدہ تھا۔ظاہر ہے کہ بوجہ نا تجربہ کاری کے سلسلہ کی پیچیدگیوں پر اُن کی نظر نہیں پڑی۔اور جلدی سے ایک ایسا فیصلہ کر دیا گیا کہ جس میں نادانستہ طور پر وہ دشمن کے ہاتھ میں پڑ گئے۔جس رنگ میں زمینیں تقسیم ہوئی ہیں جلسہ سالانہ کے موقع پر میں بتا چکا ہوں کہ وہ طریق بھی سخت ناقص تھاز میں موجود ہے اور بہت زیادہ موجود ہے۔