خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 303

خطابات شوری جلد سوم ٣٠٣ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء اُس طرف کا رُخ بھی نہ کرنا کوئی مفید نتیجہ پیدا نہیں کرتا۔ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہر گاؤں میں خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا دو دو چار چار آدمی احمدی ہو جائیں ، بہت دفعہ دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی جگہ پچاس ساٹھ احمدی ہو گئے ہیں تو اُن کی ترقی رُک گئی ہے لیکن جہاں دو دو چار چار احمدی تھے وہاں ترقی ہوتی رہی۔اس کی وجہ در حقیقت یہی ہوتی ہے کہ نئی نئی جگہوں پر نئی نئی جماعتیں قائم کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی اور جماعت کی ترقی کے جو قدرتی ذرائع ہوتے ہیں وہ مفقود ہوتے چلے جاتے ہیں۔جہاں دہوتے چلے جاتے ہیں۔جہاں ایک ایک دو دو احمدی ہوں یا نئی جماعتیں قائم ہوں وہاں لوگوں کا دباؤ ، اُن کی مخالفت اور شرارت اور پھر رشتہ داروں کا تناؤ اور کھچاؤ انسان کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ جد و جہد کرے اور مخالفت کرنے والوں کو اپنے ساتھ ملائے اور جب وہ جد و جہد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُسے کامیابی بھی عطا فرما دیتا ہے اور ایک سے دو اور دو سے چار اور چار سے دس بننا شروع ہو جاتے ہیں لیکن جہاں زیادہ احمدی ہو جائیں وہاں چونکہ مخالفت کم ہو جاتی ہے اس لئے لوگوں کی توجہ بھی تبلیغ کی طرف سے ہٹ جاتی ہے گویا چھوٹی جماعتیں جہاں اپنے چھوٹا ہونے کی وجہ سے اور مخالفین کے مظالم کا تختہ مشق بننے کی وجہ سے جلد جلد ترقی کرتی ہیں وہاں بڑی جماعتیں بسا اوقات اپنی کثرت کی وجہ سے غفلت اور کوتاہی کا شکار ہو جاتی ہیں۔پس کوشش کرنی چاہیے کہ نئی نئی جگہ جماعتیں بنائی جائیں اور ہر گاؤں اور ہر شہر میں سے دو دو تین تین لوگوں کو احمدیت میں شامل کر لیا جائے۔اگر ہماری جماعت یہ طریق اختیار کرلے تو دس سال میں ہی وہ ہندوستان پر غالب آ سکتی ہے ، مگر افسوس ہے کہ اس طرف صحیح طور پر توجہ نہیں کی جاتی۔پس میں جماعتوں کو ایک دفعہ پھر اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ہر شخص سے سال میں کم از کم ایک احمدی بنانے کا عہد لیا جائے اور لسٹوں کو مکمل کر کے دفتر بیعت میں بھجوا دیا جائے اور پھر اس عہد کو پورا کرنے کی کوشش کی جائے۔میں نے بتایا ہے کہ تبلیغ کا بہترین طریق یہ ہے کہ نئی نئی جگہوں میں ایک ایک دو دو احمدی بنانے شروع کر دیئے جائیں۔لاہور اور دہلی میں بھی میں نے دوستوں سے کہا تھا کہ دیکھو فلاں فلاں محلوں میں کوئی احمدی نہیں تم کوشش کرو کہ اُن محلوں میں احمدیت پھیلے اور کوئی ایک محلہ بھی ایسا نہ رہے جس میں ہماری جماعت کا کوئی فرد نہ ہو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر جگہ نئی مخالفت شروع ہو جائے گی۔لوگوں کی طبائع میں تحقیق و جستجو کا