خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 302
خطابات شوری جلد سوم جائے گا۔“ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء ایک دوست نے عرض کیا کہ حضور نے تو فرمایا تھا کہ ہم اُن کے مال کو حرام سمجھیں گے۔حضور نے فرمایا:۔اس سے مراد یہی تھی کہ اس قسم کی تحریکات میں اُن کو شامل نہیں کیا جائے گا صرف چندہ عام اُن سے لے لیا جائے گا۔“ اسی سلسلہ میں حضور نے یہ بھی فرمایا کہ:- وہ لوگ جنہوں نے ابھی تک اپنی جائیداد یا آمد وقف نہیں کی وہ ڈیڑھ ماہ کے اندر اندر اس وقف میں شامل ہو سکتے ہیں۔“ سوالات کے بعد حضور نے پھر سلسلہء تقریر کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا:۔جامع نصائح ”اب میں جماعت کو چند آخری نصائح کر کے اس مجلس کو برخاست کرتا ہوں، میں نے جماعت کو بارہا توجہ دلائی ہے کہ تبلیغ پر خاص زور دو اور پچھلے دنوں تو خصوصیت کے ساتھ میں نے اِس طرف توجہ دلائی تھی مگر ابھی تک بہت ہی کم جماعتوں نے اس فریضہ کی ادائیگی کی طرف توجہ کی ہے۔لاکھوں کی جماعت میں سے اب تک صرف ۱۸۸۵ افراد نے دو ہزار بیعتوں کے وعدے کئے ہیں جو نہایت افسوس ناک امر ہے۔دوستوں کو یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہیئے کہ جب تک تبلیغ کی طرف خاص طور پر توجہ نہیں کی جائے گی جماعت کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔ہر شخص جو اس سلسلہ میں داخل ہوتا ہے اُسے یہ پختہ عہد کر لینا چاہیئے کہ وہ سالانہ کم از کم ایک شخص کو احمدیت میں داخل کرنے کی کوشش کرے گا اور اگر وہ ایسا عہد نہیں کرتا تو اُسے سمجھ لینا چاہیئے کہ روحانی رنگ میں اُس پر موت وارد ہو رہی ہے۔قادیان کی جماعت کو بھی میں نے گزشتہ دنوں اس طرف توجہ دلائی جس پر کئی لوگوں نے تبلیغ کے لئے اپنے اوقات کو وقف کیا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے امید کی جاتی ہے کہ اگر وہ اپنے عہد پر قائم رہتے ہوئے سرگرمی سے تبلیغی جد و جہد کو جاری رکھیں گے تو اس کے نہایت خوش کن نتائج برآمد ہوں گے۔باہر کی جماعتوں کو بھی میں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے افراد کو تبلیغ کے لئے اوقات وقف کرنے کی تحریک کریں اور پھر تنظیم کے ماتحت اُن سے کام لیا جائے۔کبھی کبھی کسی گاؤں میں تبلیغ کے لئے چلے جانا اور پھر مہینوں