خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 301
خطابات شوری جلد سوم ادا کر سکتا ہے۔“ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء ایک صاحب نے سوال کیا کہ ایک دوست نے اپنی آمد وقف کی تھی مگر اب وہ بریکار ہے ، وہ اس تحریک میں کس طرح شامل ہوسکتا ہے؟ حضور نے فرمایا :۔اُسے نیت کا ثواب مل جائے گا ، اُس نے کرنا کیا ہے۔“ ایک اور سوال کے جواب میں فرمایا کہ:- جن لوگوں نے میری پہلی تحریک پر صرف مجروی وعدے کئے تھے پورا وقف نہیں کیا تھا اُن کو چاہیئے کہ یا تو اپنی جائیداد اور آمد کو وقف کریں یا پھر غیر واقف کی طرح رقم ادا کریں۔ہم نے بے شک اُن سے وعدے لے لئے ہم سمجھتے تھے کہ اُنہوں نے وقف نہیں کیا وہ اب اپنی جائیداد یا آمد وقف کریں اور یا پھر اسی طرح چندہ دیں جس طرح غیر واقف دیں گے۔66 ایک اور صاحب کے سوال کے جواب میں حضور نے فرمایا :۔مظلومین بہار کی اعانت کے لئے جو چندہ کی تحریک کی گئی ہے یہ بھی درحقیقت اپنی حفاظت کی ہی ایک شاخ ہے کیونکہ جو شخص دوسرے کی حفاظت کے لئے قربانی کرتا ہے وہ اپنی جان کی حفاظت کے لئے اپنے مال اور جان کو قربان کرنے سے کس طرح پیچھے رہ سکتا ہے ، اس لئے یہ تحریک بھی گو صدقہ کا رنگ رکھتی ہے مگر ایک رنگ میں اس کا تعلق اپنی حفاظت کے ساتھ بھی ہے۔دشمن یہ سمجھنے پر مجبور ہوتا ہے کہ جو لوگ دوسروں کے لئے مال خرچ کر رہے ہیں وہ اپنی حفاظت کے لئے کسی بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں 66 کریں گے۔“ ایک اور سوال کے جواب میں حضور نے فرمایا :۔تقویٰ کا طریق یہی ہے کہ اگر کسی کی آمد زیادہ ہو تو وہ آمد ادا کرے اور اگر حصہ جائیداد زیادہ ہو تو حصہ جائیداد ادا کرے۔“ ایک اور سوال کے جواب میں حضور نے فرمایا :۔وہ لوگ جو اس تحریک میں شامل نہ ہوں جماعتوں کو اُن کے نام نوٹ کر لینے چاہئیں ، ایسے لوگوں کو جب بھی کوئی ثواب کا موقع آئے گا آئندہ اس میں شامل نہیں کیا