خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 300

خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء پر بھی اپنے قدموں میں جنبش پیدا نہ ہونے دے اور اپنے دل کو اُستوار رکھے۔اس مسئلہ کو اپنے مد نظر رکھتے ہوئے دعائیں کرو اور روزے رکھو۔دعائیں کراؤ اور روزے رکھواؤ اور مرکز کی حفاظت کے لئے جلد سے جلد دس پندرہ لاکھ روپیہ اپنی ذاتی امانت کے ماتحت خزانہ صدرانجمن احمد یہ میں جمع کرا دو۔یہ روپیہ چونکہ حفاظت مرکز کے کام کے لئے استعمال کیا جائے گا اس لئے اس کی واپسی فوراً نہیں ہوگی ، سوائے اس کے کہ کسی کو کوئی اشد ضرورت پیش آجائے۔بے شک یہ سارا روپیہ امانت کے طور پر محفوظ رہے گا اور سلسلہ اس کو واپس کرنے کا ذمہ دار ہوگا مگر بہر حال اس کی واپسی میں کچھ وقفہ ضرور ہوگا تا کہ چندہ اکٹھا ہونے تک اس روپیہ سے کام لیا جا سکے۔اسی طرح دوسری تحریکات جو میں نے اس وقت کی ہیں نمائندگان جماعت کا فرض ہے کہ واپس اپنی جماعتوں میں جا کر اُن پر عمل کرائیں اور دوستوں پر ان تحریکات کی اہمیت واضح کریں۔میں نے کہا ہے کہ ہر وہ شخص جس نے خدمتِ سلسلہ کے لئے اپنی جائیداد وقف کی ہوئی ہے وہ اپنی جائیداد کی قیمت کا ایک فیصدی خزانہ صدرانجمن احمدیہ میں داخل کرے اور وہ لوگ جنہوں نے اپنی آمد وقف کی ہوئی ہے وہ ایک مہینے کی تنخواہ دیں اور وہ لوگ جو واقفین جائیداد یا واقفین آمد میں شامل نہیں اُن کو تحریک کی جائے کہ وہ ان میں سے کسی وقف میں یا اگر اللہ تعالیٰ نے انہیں تو فیق دی ہے تو دونوں تحریکوں میں شامل ہو جائیں ، اس کے بعد اُن پر بھی اُسی قانون کا اطلاق ہوگا جو پہلے واقفین کے لئے تجویز کیا گیا ہے یعنی اُن سے بھی جائیداد کی قیمت کا ایک فیصدی یا ایک ماہ کی تنخواہ لی جائے گی اور وہ لوگ جو تحریک کے باوجود اپنی جائیداد یا آمد کو وقف نہیں کریں گے اُن سے جائیداد کی قیمت کا ۱/۲ فیصدی یا اُن کی سالانہ آمدن کا چوبیسواں حصہ یعنی مہینہ کی آدھی تنخواہ لی جائے گی۔ایک صاحب پوچھتے ہیں کہ اس تحریک میں اگر کسی نے پہلے کچھ چندہ لکھوایا ہو ا ہو تو وہ الگ شمار ہوگا یا اسی تحریک میں شمار کیا جائے گا؟ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ وہ چندہ اسی چندہ میں شامل ہوگا یعنی اگر کسی نے موجودہ تحریک کے ماتحت ایک سو روپیہ دینا ہے اور پچاس روپے وہ دے چکا ہے تو اب اس کے ذمہ صرف پچاس روپے ہوں گے یا اگر پچاس کا اُس نے وعدہ کیا ہوا تھا تو اب مزید صرف پچاس کا وعدہ کر کے وہ اپنے حصہ کو