خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 295
خطابات شوری جلد سوم ۲۹۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء کیونکہ بعد میں جب اور کاغذات میرے سامنے پیش ہوئے تو اُن میں بھی دوستوں کے وعدے درج تھے۔اب آپ لوگوں کا فرض ہے کہ واپس جا کر جماعتوں میں تحریک کریں اور دوستوں کو نصیحت کریں کہ اُن کے پاس جس قدر زائد روپیہ ہے وہ فوراً خزانہ صدرانجمن احمد یہ میں یہ مدامانت جمع کرا دیں۔اگر پوری کوشش کی جائے اور تندہی سے افراد جماعت تک یہ تحریک پہنچائی جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ دس پندرہ لاکھ روپیہ چند ہفتوں میں بڑی آسانی سے جمع ہو سکتا ہے مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے فرضِ منصبی کو پورے طور پر ادا کیا جائے۔ایک صاحب نے پوچھا ہے کہ جائیداد کو وقف کرتے وقت اُس کی جو قیمت تھی اُس کا ایک فیصدی ادا کرنا ہے یا موجودہ قیمت کا ایک فیصدی ادا کرنا ہے؟ اس کا جواب تو واضح ہے لازماً وہی قیمت لی جائے گی جو اس وقت ہے اگر کسی جائیداد کی قیمت بڑھ گئی ہے تو موجودہ قیمت کے لحاظ سے ایک فیصدی چندہ ادا کرنا ضروری ہے اور اگر کسی جائیداد کی قیمت گرگئی ہے مثلاً بعض دوستوں کی جائیدادیں ہندؤوں کے محلہ میں تھیں موجودہ فسادات کے نتیجہ میں اُن کی قیمتیں ہندو محلہ میں بالکل گر گئی ہیں تو ایسی جائیدادوں پر بھی موجودہ قیمت کے لحاظ سے ایک فیصدی چندہ لیا جائے گا اور اگر پہلے وہ زیادہ قیمت لکھوا چکا ہے تو زائد رقم قیمت گر جانے کی وجہ سے اُڑ جائے گی۔ان ہدایات کے ساتھ صدر انجمن احمدیہ کا پیش کردہ بجٹ آمد پاس کیا جاتا ہے۔بجٹ اخراجات اس کے بعد بجٹ اخراجات کا سوال ہے چونکہ خرچ کی مدات میں بعد میں بھی تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں اس لئے میں بحیث اخراجات کو اس شرط کے ساتھ پاس کرتا ہوں کہ صدرا نجمین احمد یہ اُسے جاری کرنے سے قبل مجھ سے دوبارہ مشورہ لے میں اس سال بجٹ میں بعض تخفیفیں کرنا چاہتا ہوں تا کہ خرچ زیادہ سے زیادہ حد بندیوں کے ساتھ ہو میں اس بارہ میں جذباتی اپیلوں سے متاثر ہونے کے لئے قطعاً تیار نہیں اور نہ اس قسم کی اہلیں میرے دل پر ایک رائی برابر بھی اثر ڈال سکتی ہیں کہ اگر فلاں کام نہ کیا گیا تو سلسلہ کے وقار کو صدمہ پہنچے گا یا اگر فلاں خرچ منظور نہ کیا گیا تو جماعت کے متعلق لوگ کیا کہیں گے کہ اُن کا قدم ترقی کی بجائے تنزل کی طرف جارہا ہے۔میں سلسلہ کے