خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 289
خطابات شوری جلد سوم ۲۸۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء " کیا جائے۔میں یہ قانون مقرر کرتا ہوں کہ آئندہ قادیان میں کوئی زمین امور عامہ کو اطلاع دیئے بغیر فروخت نہیں ہو سکتی۔جو لوگ اس سے پہلے سو دے کر چکے ہیں اُن کو صرف دس فیصدی دینا ہوگا۔لیکن آج کے بعد جو زمین قادیان میں فروخت ہو اُس کے متعلق یہ قانون ہوگا کہ فروخت کرنے والا نفع کا پچاس فیصدی خزانہ صدرانجمن احمد یہ میں داخل کرے۔میں سمجھتا ہوں کہ قادیان میں زمینوں کے سو دے دو تین لاکھ روپیہ سالانہ کے ہوتے ہیں اگر اس قانون پر عمل کیا گیا تو چالیس پچاس ہزار روپیہ سالانہ اس رنگ میں بھی خزانہ صدر انجمن احمد یہ میں آجائے گا۔پس آ ج کے بعد قادیان میں جتنے سودے ہوں وہ امور عامہ کی معرفت ہوں براہ راست کوئی سودا نہ کیا جائے اور خرچ وغیرہ نکالنے کے بعد جتنا نفع ہو اُس کا پچاس فیصدی سلسلہ کو دیا جائے کیونکہ قادیان کی ترقی اللہ تعالیٰ کی پیش گوئیوں کے ماتحت ہے۔“ میرا ارادہ ہے کہ میں اس کے متعلق مزید غور کروں اور کچھ اصول اور قواعد ایسے مقرر کر دوں جن کے نتیجہ میں قادیان میں زمینوں کی قیمت زیادہ نہ چڑھے اب بھی جس حد تک قیمتیں چڑھ چکی ہیں وہ اتنی زیادہ ہیں کہ غرباء اس بھاؤ پر زمین خرید کر مکان نہیں بنا سکتے گو موجودہ قیمتوں کو گرانا مشکل ہے لیکن پھر بھی ہماری کوشش یہ ہے کہ غریبوں کے لئے آسانی پیدا کی جائے اور آئندہ زمینوں کی قیمتیں نہ بڑھیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح بے تحاشا طور پر قیمتیں بڑھانا اللہ تعالیٰ کے الہام کے رستہ میں روک بن کر کھڑا ہونا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے الہام کے رستہ میں روک بنے گا وہ اس کے عذاب سے بچ نہیں سکے گا۔مجھے حیرت آتی ہے کہ لوگ کیوں حرام کا روپیہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیوں حلال اور جائز طریق سے روپیہ نہیں کماتے۔ہم سے شروع میں غلطی ہوئی ہے کہ ہم نے لوگوں سے معاہدے نہ کرائے کہ وہ فلاں حد تک نفع لے سکیں گے اس سے زیادہ نہیں لیکن یہ غلطی تو ہو چکی ہے میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگوں نے ہم سے خرید کردہ جائیدادیں سو سو دو دو سو گنا زیادہ قیمتوں پر فروخت کی ہیں اور گو گزشتہ غفلت کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا لیکن آئندہ سلسلہ کے قوانین کے ذریعہ ان باتوں پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے یہ قواعد جو میں نے مقرر کئے ہیں ان سے قادیان کی آبادی میں بھی