خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 288

خطابات شوری جلد سوم دہرا دیتا ہوں۔۲۸۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء اوّل یہ کہ تمام دوست اپنی امانتیں جو کہ دوسرے بینکوں میں ہیں مرکز میں بھجوا دیں اور دوسروں کو بھی اس کی تحریک کریں۔دوسری بات وقف جائیداد ہے کچھ دوست تو پہلے سے جائیدادیں وقف کر چکے ہیں جن دوستوں نے ابھی تک جائیداد میں وقف نہیں کیں وہ اب کریں اور جائیداد وقف کرنے والے اپنی جائیداد کا ایک فیصدی چھ ماہ کے اندر اندر ادا کریں اور جو لوگ صاحب جائیداد نہیں ہیں وہ اپنی ایک ماہ کی آمد وقف کریں اور چھ ماہ کے اندر اندر ادا کریں۔اور جولوگ وقف جائیداد میں شامل نہ ہونا چاہتے ہوں ان سے جائیداد کی قیمت کا ۱٫۲ فیصدی لیا جائے اور آمد والے بھی نصف ماہ کی آمد ادا کریں۔تیسری تجویز یہ ہے کہ وصیت کو بڑھانے کی کوشش کی جائے۔اگر تمام احمدی وصیت کرنا شروع کر دیں تو ہماری ضروریات بہت حد تک آپ ہی آپ پوری ہوتی رہیں۔اگر جماعت اخلاص کا ثبوت پیش کرے تو چودہ پندرہ لاکھ روپیہ وصیت کے ذریعہ آ سکتا ہے۔گویا ہماری موجودہ آمد سے سات لاکھ روپیہ زیادہ آسکتا ہے اور چھ لاکھ روپیہ میں ایک ہزار دیہاتی مبلغ رکھا جاسکتا ہے اور ایک ہزار آدمیوں کے ذریعہ ہم تبلیغی میدان میں ایک زبردست طوفان برپا کر سکتے ہیں۔ہمارے مقابلہ میں کوئی قوم ٹھہر نہیں سکے گی اور کوئی قوم مالی لحاظ سے بھی ہمارے مقابلہ میں قربانی کی ایسی مثال پیش نہیں کر سکے گی۔چوتھی تجویز وصیت کی زیادتی ہے تمام ایسے دوست جن کے حالات ایسے ہیں کہ وہ تھوڑے روپیہ میں گزارہ کر سکتے ہیں مثلاً ابھی اُن کی شادیاں نہیں ہوئیں یا بچے تھوڑے ہیں ایسے لوگ اپنی وصیت ۱۰ارا کی بجائے ۹/ ۱ یا ۱/۸ کر دیں اس سے بھی جماعت کو بہت بڑی آمد ہو سکتی ہے۔اس کے علاوہ ایک اور صورت آمد کی میرے ذہن میں آئی ہے، بے شک بعض لوگوں کو وہ بُری معلوم ہوگی لیکن اس کا سب سے زیادہ اثر ہم پر پڑتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ سلسلہ کا جائز حق ہے۔اس لئے میں اُس کا اعلان کئے دیتا ہوں وہ یہ ہے کہ آئندہ قادیان میں جو زمینیں فروخت کی جائیں اُن کے نفع کا نصف حصہ خزانہ صدر انجمن احمدیہ میں داخل