خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 279

خطابات شوری جلد سوم ۲۷۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء کر دیا تھا۔وہ تنبیہ کسی قیاس کی بناء پر نہ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم کے ماتحت تھی اور اللہ تعالیٰ کی باتیں ہمیشہ سچی ہوتی ہیں، کوئی ہستی ان کو جھوٹا ثابت نہیں کر سکتی۔مجھے آج ایک دوست کا رُقعہ ملا جس میں اُنہوں نے لکھا ہے کہ وہ لاہور گئے تھے وہاں سلسلہ کے ایک سخت مخالف سے اُن کی بات چیت ہوئی تو انہوں نے محسوس کیا کہ اس کی حالت بالکل بدلی ہوئی ہے۔اُس مخالف شخص نے میرا نام لے کر کہا کہ ان کی خواب کا آدھا حصہ تو پورا ہو گیا ہے اور خدا کرے کہ دوسرا حصہ بھی پورا ہو جائے اور ہم لوگ مصیبت سے بچ جائیں۔میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی باتیں ایک ایک کر کے پوری ہو رہی ہیں اور بدلنے والے حالات بہت سُرعت کے ساتھ بدل رہے ہیں۔میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ مسلم لیگ پر وائسرائے ہاؤس میں کانگرس نے حملہ کیا ہے یہ خواب کس طرح لفظ بہ لفظ پورا ہوا۔پنڈت جواہر لعل نہرو صاحب نے وائسرائے پر زور دیا کہ مسلمانوں کو انٹرم کے گورنمنٹ سے نکال دیا جائے پھر جس طرح میں نے دیکھا تھا که مسلمان اُڑتے ہیں اور اونچی اونچی چھلانگیں لگاتے ہیں بالکل اسی طرح ہو امسلم لیگ کے ممبران ہوائی جہازوں میں بیٹھ کر انگلستان گئے اور وہاں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی جس کا ہندو اخبارات نے بھی اعتراف کیا۔اسی طرح فسادات کے متعلق یہ کتنی واضح خواب ہے کہ میں نے دیکھا ہمارا ایک عزیز ایک مکان میں غائب ہو گیا ہے اور اس مکان کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ یہاں ہندو مسلمانوں کو قتل کر دیتے ہیں اور میں اس کو تلاش کرنے کے لئے اِدھر اُدھر پھرتا ہوں۔میری اس خواب کے شائع ہونے پر ایک شخص نے گورنمنٹ کو درخواست دی کہ اس میں احمدیوں کو ہندؤوں پر حملہ کرنے کے لئے اُکسایا گیا ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے مجھے قبل از وقت ان حالات کا علم دیا اور میں نے ایسے وقت میں ان باتوں کے متعلق جماعت کو آگاہ کیا جبکہ دنیا ان کے متعلق کچھ نہ جانتی تھی۔ابھی ایک رویا شائع نہیں ہوئی میں نے رویا میں دیکھا تھا کہ فوجوں میں بغاوت کے آثار پائے جاتے ہیں چنانچہ جالندھر کے ایک فوجی افسر نے مجھ سے ذکر کیا کہ واقعہ میں بعض مقامات پر فوجوں میں بغاوت کے آثار نمودار ہوئے لیکن گورنمنٹ نے اس خبر کو دبا دیا