خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 278
خطابات شوری جلد سوم ۲۷۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء ہوگی۔بجٹ کے عام اخراجات تو سال کے دوران میں پورے ہوتے رہیں گے لیکن حفاظت قادیان کے لئے ہم سال بھر انتظار نہیں کر سکتے۔میں تو جتنا سوچتا ہوں اُتنا ہی معاملہ اُلجھا ہوا نظر آتا ہے۔آپ لوگ ذرا غور کریں کہ اگر کسی شخص کا لڑکا بیمار ہو جائے تو وہ سینکڑوں روپیہ اُس کی دواؤں وغیرہ پر خرچ کر دیتا ہے بلکہ میں نے غرباء کو دیکھا ہے کہ وہ بھی سو دو سو روپیہ خرچ کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں کئی دفعہ بعض غریب آدمی میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سو روپیہ تو ہم نے جمع کر لیا ہے ایک سو روپیہ آپ دے دیں تو ہم فلاں جگہ اپنے بچے کو لے جا کر اُس کا علاج کرائیں لیکن حفاظت مرکز کے لئے اس وقت تک گل چھتیس ہزار روپیہ آیا ہے۔حالانکہ آپ لوگوں کے سامنے امرتسر اور لاہور کے واقعات ہیں کہ اُن کو جلایا گیا اور بہت سا جانی نقصان ہوا ان واقعات کو دیکھتے ہوئے یہ چندہ بالکل تمسخر معلوم ہوتا ہے اور میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر یہی حالات رہے تو آپ لوگ کس طرح مرکز کی حفاظت کریں گے اور کس طرح پانچ لاکھ روپیہ پورا کریں گے۔پس مجھے بتایا جائے کہ جو روپیہ دیا گیا ہے وہ جماعت نے کیا سمجھ کر دیا ہے اور باقی روپیہ آپ لوگ کس طرح پورا کریں گے۔“ اس پر چند ممبران نے اپنے نام لکھوائے اور آراء پیش کیں۔اس پر حضور نے فرمایا :۔د اگر یہ سلسلہ حفاظت مرکز کے متعلق جماعت سے مالی قربانیوں کا مطالبہ انسانی ہاتھوں کا بنایا ہو ا ہوتا تو میں سمجھتا کہ جماعت کی اس معاملہ میں عدم توجہی حقیقی کمزوری اور کمی ایمان کا نتیجہ ہے لیکن یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کا بنایا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ نے خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو فرمایا کہ میں تیرا محافظ ہوں اور تیرے بچے اور حقیقی محبتوں کا گروہ بڑھاتا چلا جاؤں گا۔پس میں یہ خیال بھی نہیں کر سکتا کہ جماعت کی عدم توجہ حقیقی کمزوری کی وجہ سے ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں یہ سستی اور غفلت حقیقی سستی اور غفلت کی وجہ سے نہیں بلکہ حالات کا صحیح اندازہ نہ لگانے کی وجہ سے ہے اور آج میری غرض بھی یہی تھی کہ میں جماعت کو توجہ دلاؤں کہ وہ نادانی سے غفلت اور سستی کی مرتکب نہ ہو ورنہ حقیقت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور جس کے متعلق میں نے آپ لوگوں کو قبل از وقت متنبہ