خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 275
خطابات شوری جلد سوم ۲۷۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء میرے پاس آئے اور اس سفر سندھ میں ٠ے کے قریب سندھی بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہوئے۔اور بعض علاقوں میں تو احمدیت کا اتنا چرچا ہے کہ ایک شخص سو میل کا پیدل سفر کر کے مجھے ملنے آیا۔یہ سب حالات بتاتے ہیں کہ اب لوگوں کے دلوں میں احمدیت کے متعلق تحقیقات کرنے کا شوق ہونے لگا ہے اور یہ دلچسپی دن بدن بڑھتی جارہی ہے اس لئے ابھی ہم کو قربانیوں کے میدان میں اس طرح اپنے آپ پر جبر کر کے چلنا پڑے گا جیسے گھوڑا لگام کو اپنے منہ میں دبا کر چلتا ہے ورنہ ہمارالٹریچر، ہماری تقریر میں اور تمام گزشتہ کوششیں بریکار جائیں گی۔میں نے اِس سفر سندھ میں لوگوں کے احمدیت کی طرف بڑھتے ہوئے رحجان اور اشتیاق کو دیکھا ہے جس سے میں اندازہ لگا تا ہوں کہ ہندوستان کے مسلمان آخر ہر طرف سے ٹھوکریں کھا کر احمدیت ہی کے مضبوط قلعہ کے اندرآ کر پناہ گزیں ہوں گے۔اب مسلمانوں کے اندر کچھ کچھ بیداری کے آثار پائے جانے لگے ہیں اور وہ اس کشمکش کے زمانہ میں ایڑیاں اُٹھا اُٹھا کر احمدیت کے جھنڈے کی طرف دیکھ رہے ہیں۔میں نے گزشتہ سفر میں دیکھا کہ ملتان یا منٹگمری کے سٹیشن پر ایک شخص عین اُس وقت میری ملاقات کے لئے پہنچا جب کہ ریل چل پڑی تھی مگر وہ پھر بھی ریل کے ساتھ ساتھ دوڑتا جاتا تھا اور کہتا جاتا تھا کہ میں نے کسی دوست سے لے کر آپ کی تفسیر پڑھی ہے جس نے میرے سینے میں ایک تلاطم پیدا کر دیا ہے مگر مجھ میں خریدنے کی استطاعت نہیں۔اُس کے اندر اتنا جوش تھا کہ ریل کے ساتھ ساتھ دوڑتا آیا یہاں تک کہ پلیٹ فارم بھی ختم ہو گیا مگر میں نے دیکھا کہ وہ پھر بھی دوڑ رہا تھا اور باوجود یکہ ریل کے شور میں اُس کی آواز دب رہی تھی اُس کے ہونٹ ہلتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔پس عوام الناس کی طبائع میں یہ جوش ظاہر کرتا ہے کہ ایک دنیا احمدیت کے روحانی پانی کی پیاسی ہورہی ہے مگر ہمیں افسوس ہے کہ ہم اُن کی پیاس بجھانے کے لئے گو تڑپ رہے ہیں لیکن وسیع پیمانہ پر کام نہیں کر سکتے۔بے شک احمدیت روحانی ٹھنڈے اور میٹھے پانی کا ایک بہت بڑا چشمہ ہے لیکن جب تک اس چشمہ میں سے لئے اپنے مشکیزے پانی سے بھر بھر کر پیاسوں تک گھر گھر نہ لے جائیں گے، ان کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ہمارے مبلغین کی مثال سقوں کی سی ہے جو اس روحانی چشمے سے اپنے اپنے مشکیزے بھر کر اور کمر پر اُٹھا کر دور و نزدیک کے پیاسوں کی پیاس بجھا رہے ہیں