خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 270
خطابات شوری جلد سوم ۲۷۰ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء رستہ میں ہمارے لئے روک بن رہا ہے ہمارے لئے ضروری ہے کہ جہاں تک ممکن ہو تعلیم کے اخراجات کو کم کر کے تبلیغ پر زور دیں اور تعلیم کے صرف ایسے اخراجات ہی ضروری سمجھے جائیں جن کے بغیر گزارہ نہ ہو سکتا ہو پرانے زمانہ کے علماء شاندار عمارتوں میں بیٹھ کر نہیں پڑھاتے تھے ان کے پاس میزیں اور کرسیاں اور دوسرا فرنیچر نہیں ہوتا تھا وہ درختوں کے سایہ میں چٹائیاں بچھا کر ہی بیٹھ جایا کرتے تھے اور کام بھی آجکل کے علماء سے زیادہ کرتے تھے مجھے یاد ہے حضرت خلیفہ اول ہمیشہ ہمیں چٹائیوں پر بٹھا کر پڑھایا کرتے تھے اس میں نہ آپ اپنی ہتک محسوس کرتے تھے اور نہ ہم اپنی ہتک سمجھتے تھے۔پس تعلیم کے لئے یہ ضروری نہیں کہ سکول کی بلڈنگ اعلیٰ قسم کی ہو یا میزیں اور کرسیاں اعلیٰ درجہ کی ہوں بلکہ تعلیم کے لئے صرف معلمین اور متعلمین کے دلوں میں عزم کی ضرورت ہے اُستاد سمجھ لیں کہ ہم نے اپنے شاگردوں کو پڑھانا ہے اپنے سلسلہ اور قوم کی زندگی کے لئے اور شاگرد سمجھ لیں کہ ہم نے پڑھنا ہے صرف اس لئے کہ ہم تعلیم حاصل کر کے سلسلہ کے لئے مفید وجود بنیں گے جب یہ دونوں ان باتوں کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیں گے تو میں امید کرتا ہوں کہ ہم تعلیم کے زائد اور غیر ضروری اخراجات سے بچ جائیں گے اور موجودہ بوجھ یقیناً کم ہو جائے گا البتہ گورنمنٹ کی طرف سے اگر ان باتوں پر زور دیا جائے کہ عمارت اس قسم کی ہونی چاہیے اور ساز و سامان اس قسم کا ہو تو اس صورت میں گورنمنٹ - کا مطالبہ کرنا چاہیے۔جب تک گورنمنٹ ہمیں ان کاموں کے لئے امداد نہیں دیتی ہم کیوں اپنا روپیہ ضائع کریں اور ایسے وقت میں کریں جبکہ ایک طرف ہمارا مقدس مقام چاروں طرف سے خطرات میں گھرا ہوا ہے اور دوسری طرف ہمارے دین پر ہر طرف سے حملے را اور ہورہے ہیں۔اس وقت تو ہمیں چاہیے کہ جہاں تک ہم سے ہو سکے ہم اپنے زائد اخراجات کو کم کرنے کے علاوہ ایسے اخراجات بھی کم کر دیں جن کے کم کرنے سے ہمیں تھوڑی بہت تکلیف برداشت کرنی پڑے اور اپنی ساری توجہ اپنے مقدس مقامات کی حفاظت اور دین کی اشاعت کی طرف مبذول کر دیں اور اگر ہم اس قسم کے خیالات رکھنے لگ جائیں کہ ہمارے کالج کی عمارت اگر یوں نہ بنی تو ہماری ناک کٹ جائے گی یا ہمارا ہوٹل اعلیٰ پایہ کا نہ ہوا تو دنیا ہمیں طعنے دے گی تو میرے نزدیک اس قسم کی باتوں اور طعنوں سے اگر ہماری