خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 267

خطابات شوری جلد سوم ۲۶۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء ۲۹۶ دوست کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا:۔۲۹۶ آراء اس تجویز کے حق میں ہیں اس لئے میں بھی کثرت رائے کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں کہ ہوٹل جامعہ احمدیہ کے لئے ٹیوٹر کے لئے ۲۴۰ روپیہ بجٹ میں رکھا جائے بشر طیکہ طلباء کی تعداد کم از کم پچاس ہو۔تیسری تجویز یہ ہے کہ عمارات صدر انجمن احمدیہ کے لئے ۳۰۰۰۰ روپے کی رقم منظور کی جائے۔جو دوست اس کے حق میں ہوں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ اس پر ۱۴۴ دوست کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا:۔” جو دوست سب کمیٹی کی تجویز سے متفق ہیں کہ یہ رقم خرچ نہ کی جائے وہ کھڑے ہو جائیں۔“ فیصلہ اس پر ۱۶۷ دوست کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا:۔۱۴۴ دوست اس تجویز کے حق میں ہیں اور ۱۶۷ آراء اس کے خلاف ہیں اس لئے میں کثرتِ رائے کے حق میں فیصلہ دیتا ہوں کہ عمارات صدرانجمن احمد یہ کے لئے ۳۰۰۰۰ روپیہ کی رقم نامنظور کی جاتی ہے۔“ اس کے بعد حضور نے فرمایا:۔جہاں تک بجٹ کا سوال ہے میں آخر میں اس کے متعلق مفصل بیان کروں گا سر دست میں جماعت سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ملک کے طول و عرض میں جگہ جگہ فسادات ہورہے ہیں اور ان فسادات میں لاکھوں روپے کی عمارتیں تباہ ہوتی چلی جارہی ہیں ہم اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں تو کرتے ہیں کہ وہ اپنے خاص فضل اور کرم سے قادیان کو ان فسادات کی لپیٹ میں آنے سے محفوظ رکھے لیکن فرض کرو دشمن خدا نخواستہ قادیان پر حملہ کر دے تو ہمارے لئے پہلی عمارتوں کو ہی بچانا دشوار ہو جائے گا چہ جائیکہ ہم ان حالات کی موجودگی میں نئی تعمیرات شروع کر دیں گویا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم جان بوجھ کر اپنے سرمایہ کو تعمیرات میں لگا کر تباہ کر دیں۔کام کرنے والے لوگ یہ نہیں دیکھا کرتے کہ ان کے بیٹھنے کے لئے جو مکان ہے اُس کی بلڈنگ اعلیٰ ہے یا نہیں اور سجا سجایا ہے یا نہیں اُن کو تو اپنے کام سے غرض ہوتی ہے اور وہ گھاس پھوس کے چھپروں کے نیچے بیٹھ کر بھی اپنے کام کو