خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 12

خطابات شوری جلد سوم رہنا پسند نہیں کرتی۔مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء غرض دنیا اگر ہمیں تکلیف کی چیز نظر آتی ہے تو پھر آگے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان دے دینا ہمارے لئے بالکل آسان ہو جاتا ہے۔بالخصوص وہ قوم جو سمجھتی ہے کہ اُس کے لئے دنیا میں مشکلات ہی مشکلات ہیں اور جس کے سروں پر ہر وقت مصائب کے بادل چھائے رہتے ہیں اور جس کی حالت ساری دنیا کے مقابلہ میں ایسی ہی ہے جیسے بتیس دانتوں میں زبان ہوتی ہے میں اُس کے افراد سے کہتا ہوں کہ وہ ان مشکلات اور مصائب کی موجودگی میں کیوں اپنا قدم آگے نہیں بڑھاتے اور کیوں اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے آستانہ پر قربانی کے لئے پیش نہیں کر دیتے۔مومن وہ ہوتا ہے کہ جب وہ کوئی ابتلاء دیکھتا ہے تو پرواہ نہیں کرتا بلکہ سمجھتا ہے کہ اگر مجھ سے پہلے لوگ قربانی کے راستہ پر چل کر اللہ تعالیٰ کے قرب اور اس کی محبت کو حاصل کر گئے تو اب میرے لئے بھی صحیح راستہ یہی ہے کہ میں اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چل کر خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان کو قربان کر دوں اور در حقیقت جب بھی کسی شخص کے دل میں خدا تعالیٰ کا سچا عشق ہو گا وہ اپنی جان کو ہر وقت ہتھیلی پر لے کر پھرتا رہے گا اور موقع ملنے پر خدا تعالیٰ کے سامنے اپنی اس حقیر قربانی کو پیش کر کے اپنے فرض سے سبکدوش ہو جائے گا۔احد کی جنگ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق یہ خبر مشہور ہو گئی کہ آپ شہید ہو گئے ہیں چونکہ اس جنگ کی ابتداء میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہو چکی تھی اور اس امر کا کوئی خیال نہیں تھا کہ کفار پہاڑ کے پیچھے سے دوبارہ حملہ کر دیں گے اس لئے اکثر صحابہ اس خیال سے کہ وہ میدان تو اب جیت چکے ہیں اِدھر اُدھر پھیل گئے تھے۔صرف چند صحابہؓ ایسے تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گر دموجود تھے۔اسی دوران میں دشمن نے شدید حملہ کیا اور اس نے اپنے حملے کا تمام زور اس جگہ پر صرف کر دیا جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے تھے۔تیروں کی بوچھاڑ کی وجہ سے یکے بعد دیگرے صحابہ زخمی ہو ہو کر گرنے شروع ہوئے یہاں تک کہ آخر میں زخموں سے نڈھال ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ایک گڑھے میں گر گئے اور لوگوں میں یہ مشہور ہو گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید ہو گئے ہیں۔حضرت عمر نے جب یہ خبر سنی تو وہ ایک ٹیلے پر بیٹھ کر رونے