خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 245

خطابات شوری جلد سوم ۲۴۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء کہ ہم تحریک جدید کے لئے واقفین لیتے ہیں تم بھی صدر انجمن کے لئے واقفین لینا شروع کر دو۔اُس وقت صدر انجمن احمدیہ نے میری بات کی طرف توجہ نہ کی نتیجہ یہ ہوا کہ آج صدر انجمن اس کا خمیازہ بھگت رہی ہے اور صدرانجمن میں کارکنوں کی اکثر کمی رہتی ہے۔نہ ناظر ملتے ہیں نہ نائب ناظر ملتے ہیں صدر انجمن کے کام کو چلانے کے لئے میں نے تحریک جدید سے سات آٹھ آدمی دیئے ہیں۔مجھے یاد ہے کہ ۱۹۳۸ء میں میں نے یہ تجویز پیش کی تھی لیکن بجٹ کمیٹی نے کہہ دیا کہ ہمیں ضرورت نہیں لیکن اب سخت پریشانی کا سامنا ہو رہا ہے۔اس میں شک نہیں کہ مہنگائی بہت زیادہ ہے لیکن معقول تنخواہوں کے باوجود مطالبات پیش کرتے جانا بتلاتا ہے کہ مبلغین میں دنیا طلبی کی روح کام کر رہی ہے۔بعض دفعہ مطالبات ایسا رنگ اختیار کر جاتے ہیں کہ ان کا پورا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔مثلاً پٹواریوں نے گورنمنٹ سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں سو روپیہ ماہوار تنخواہ دی جائے۔گورنمنٹ نے غور و خوض کے بعد جو نتیجہ نکالا وہ یہ ہے کہ اگر اس مطالبہ کو منظور کیا جائے تو گورنمنٹ کا نصف بجٹ پٹواریوں پر ہی خرچ ہو جائے گا اس لئے گورنمنٹ اُن کو سو روپیہ ماہوار تنخواہ نہیں دے سکتی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس میں ایک حد تک گورنمنٹ کا بھی قصور ہے کہ اُس نے پٹواری کے کام کے لئے میٹرک پاس ہونا ضروری کر دیا حالانکہ اس کی ضرورت نہ تھی۔اس سے پیشتر اکثر پرائمری پاس اور مڈل پاس پٹواری اس کام کو کرتے تھے لیکن چونکہ گورنمنٹ نے معیار بلند کر دیا اس لئے اُسے یہ مشکلات پیش آرہی ہیں۔کیونکہ میٹرک والوں میں اپنی زیادتی تعلیم کا بھی احساس ہوتا ہے اور وہ زیادہ تنخواہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔بہر حال ہمارے کاموں میں سے سب سے زیادہ اہم فرض تبلیغ ہے اور اس کے لئے ہمیں زیادہ سے زیادہ مبلغین کی ضرورت ہے۔اگر ہم بہت بڑے گریڈز مقرر کر دیں تو ہم اس کام کو زیادہ وسیع نہیں کر سکتے۔مبلغین کے مقابلہ میں ہمیں مدرسین کی بہت کم ضرورت پیش آتی ہے۔اس وقت ہمارے پاس گل پچاس ساٹھ مدرس کام کر رہے ہیں۔اسی طرح ہمیں کلرکوں کی بھی کم ضرورت پیش آتی ہے سب سے زیادہ ضرورت ہمیں مبلغین کی پیش آتی ہے۔اس لئے ہم بہت بڑے گریڈ مقرر کر کے اس کام کو وسیع نہیں کر سکتے۔تحریک جدید میں جتنے مبلغین ہیں سب کے سب واقفین ہیں اور تبلیغ کا کام ہی ایسا ہے کہ اس میں تنخواہ کا سوال ہی