خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 233

خطابات شوری جلد سوم ۲۳۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء کیا جس کام کے لئے ہم کھڑے ہوئے تھے اُس کام کے ہم قریب پہنچ گئے ہیں؟ سالہا سال سے ہماری یہ حالت ہے کہ جب لوگ ہم سے یہ پوچھتے ہیں کہ بتاؤ کہ تمہاری تعداد کتنی ہے؟ تو ہماری جماعت کے افراد یہ جواب دیتے ہیں کہ ہماری جماعت کی تعداد دس لاکھ ہے۔مگر سالہا سال گزر گئے دس لاکھ سے ہماری تعداد بڑھتی ہی نہیں اور ہمیں ہر سال یہی کہنا پڑتا ہے کہ ہماری تعداد دس لاکھ ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ ہم ترقی کر رہے ہیں اور ہمارے سلسلہ پر کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرتا جس میں کوئی نہ کوئی نیا آدمی ہم میں شامل نہ ہو مگر اس کے باوجود یہ کہ ہماری تعداد دس لاکھ سے نہیں بڑھتی ! اس کی وجہ در حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارد گر د تھے اُنہوں نے آپ کے کانوں میں یہ بات ڈالی کہ ہماری جماعت دس لاکھ ہے اور چونکہ آپ کے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں تھا جس سے جماعت احمدیہ کی تعداد یقینی طور پر معلوم کی جاسکتی اور کام کرنے والوں میں سے بعض لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ ہماری جماعت کی تعداد دس لاکھ تک پہنچ چکی ہے آپ نے بھی دس لاکھ تعداد لکھ دی اور جماعت کے دوستوں نے بھی کہنا شروع کر دیا کہ ہم دس لاکھ تک پہنچ گئے ہیں۔مگر اب سالہا سال گزر چکے ہیں اور پھر بھی ہماری تعداد دس لاکھ ہی ہے اس سے بڑھتی نہیں۔کیونکہ جب دس لاکھ کا ہی کوئی ثبوت نہیں ملتا تو جماعت اس سے آگے کیا بڑھے۔جس شخص سے یہ غلطی ہوئی تھی اُس کی وجہ سے ایک طرف تو جماعت مطمئن ہو گئی اور اُس نے سمجھ لیا کہ ہماری تعداد بہت کافی ہوگئی ہے ہمیں کسی خاص جد و جہد کی ضرورت نہیں اور دوسری طرف جماعت نے ترقی بھی کی تو چونکہ وہ دس لاکھ سے بہر حال کم تھی۔لوگوں نے یہی سمجھا کہ جماعت پر ایک جمود کی حالت طاری ہے اور وہ کوئی ترقی نہیں کر رہی۔گزشتہ جنگِ عظیم میں ملک فیروز خاں صاحب نون ولایت گئے تو اُنہوں نے ہندوستان کی قربانی کا نعرہ وہاں اس طرح لگایا کہ ہندوستان سے بیس لاکھ آدمی فوج میں بھرتی ہو چکا ہے حالانکہ اُس وقت تک بھرتی ابھی دس لاکھ تک بھی نہیں پہنچی تھی نتیجہ یہ ہوا کہ انگریزوں نے جب ہیں لاکھ فوج کی بھرتی کی خبر سنی تو اُنہوں نے ان الفاظ کو خوب اُچھالا اور دنیا کے کونے کونے میں مشہور کیا گیا کہ ہندوستان کتنی بڑی قربانی کر رہا ہے اُس نے اپنا