خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 232
خطابات شوری جلد سوم ۲۳۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء خواہ وہ کیسی ہی ادنیٰ حیثیت رکھنے والا ہو اُن کے کچلے جانے اور دُنیا سے ان کے مٹائے جانے کے متعلق کامل یقین رکھتا تھا۔مجھے یاد ہے احمدی اپنے گھروں کے لئے مٹی کھودتے تو لوگ اُن کے خلاف شور مچا دیتے حالانکہ وہ مٹی اپنی چھتوں کی لپائی کے لئے یا ایسی ہی اور اغراض کے لئے کھود رہے ہوتے تھے۔مگر وہ مقام جہاں احمدیوں کو اپنے مکانوں کی چھتوں پر لپائی کرنے کے لئے بھی مٹی کھودنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی آج اُسی مقام اور اُسی جگہ پر وہ بلند و بالا اور عظیم الشان عمارتیں کھڑی ہیں جو احمدیت کے عظیم الشان کا رہائے نمایاں پر دلالت کرتی ہیں اور لاکھوں لوگ اس جماعت سے وابستہ ہیں۔اب غور کرو کہ گجا تو وہ حال تھا کہ قادیان میں صرف چند آدمی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ تھے اور وہ بھی معمولی معمولی لوگوں کا تختہ مشق بنے ہوئے تھے اور کجا یہ حالت ہے کہ ہمارے کارناموں کو دیکھ دیکھ کر دشمن کا دل اک یقین اور وثوق سے زیادہ سے زیادہ لبریز ہوتا چلا جارہا ہے کہ یہ ایک طاقتور اور منظم جماعت ہے۔اور غیر ممالک میں بھی یہی احساس پایا جاتا ہے۔ابھی چند دن ہوئے انگلستان کے ایک اخبار میں شائع ہوا کہ عام طور پر خیال کیا جاتا تھا کہ جماعت احمد یہ بہت بڑی مال دار جماعت ہے مگر اب ہمیں یہ نئی بات معلوم ہوئی ہے کہ اصل میں اس جماعت کی ترقی روپیہ کی وجہ سے نہیں بلکہ اس جماعت کے افراد کی قربانی کی وجہ سے ہے۔جماعت کی تعداد کو اربوں تک پہنچایا جائے گویا یورپ کے لوگ بھی ہمیں بہت بڑا مال دار سمجھتے تھے مگر یہ ہیبت اور یہ رعب جو ہمیں آج حاصل ہے اُس زمانہ میں کہاں تھا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس دنیا میں موجود تھے۔ہمارے متعلق دشمن کے اس اندازہ میں خواہ کتنی بڑی غلطی ہو بہرحال اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کچھ نہ کچھ کام کرنے کی اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے فضل سے ضرور توفیق عطا فرمائی ہے جس سے دشمن بھی مرعوب نظر آتا ہے ورنہ بلا وجہ لوگ دوسروں کا رُعب قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔مگر سوال یہ ہے کہ بے شک خدا نے ہمیں کچھ کام کرنے کی توفیق دی ہے اور بے شک دشمن بھی ہم سے مرعوب دکھائی دیتا ہے مگر