خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 227
۲۲۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء خطابات شوری جلد سوم قد میں ترقی کر لیتے ہیں۔بیمار درخت بھی کچھ نہ کچھ پھل پیدا کر دیتے ہیں۔بیمار کھیتیاں بھی کچھ نہ کچھ غلہ اگا دیتی ہیں۔کتنی ہی رڈی کھیتی کیوں نہ ہو اُس میں سے کچھ نہ کچھ گیہوں نکل آئے گا۔کچھ نہ کچھ کپاس نکل آئے گی۔کچھ نہ کچھ گنے نکل آئیں گے۔مگر اُس گیہوں یا اُس کپاس یا اُن گنوں کو دیکھ کر ہم یہ تسلی نہیں پاسکیں گے کہ ہماری گندم اچھی ہے یا ہماری کپاس اچھی ہے یا ہمارا گنا اچھا ہے۔یا ہمارا بچہ اچھا ہے۔جب تک ان چیزوں کا نشو ونما اُس قانون قدرت کے مطابق نہیں ہوتا۔جو خدا تعالیٰ نے اُن کے متعلق دنیا میں جاری کیا ہے اُس وقت تک ہم انہیں تندرست نہیں کہہ سکتے اور نہ اُن کے نشو ونما کو حقیقی نشو و نما کہہ سکتے ہیں۔اسی طرح ہماری جماعت کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک نصب العین مقرر کیا ہے اور ہمارے ذمہ اس نے کچھ فرائض عائد کئے ہیں ہمیں دیکھنا چاہیے کہ آیا اپنے فرائض کے مطابق ہم نے ترقی کر لی ہے یا وہ نصب العین جس کے حصول کے لئے ہم کھڑے ہوئے تھے اُس نصب العین کے لئے جس قدر جد و جہد کی ضرورت تھی وہ ہم نے سرانجام دے دی ہے یا جو فرائض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے ذمہ عائد کئے گئے تھے وہ فرائض ہم نے پورے کر لئے ہیں یا کم سے کم اس جماعت میں داخل ہوتے وقت ہم نے جو وعدے کئے تھے اُن وعدوں کا پاس کرتے ہوئے ہم نے وہ قربانیاں پیش کر دی ہیں جن قربانیوں کے بغیر وہ وعدے پورے نہیں ہو سکتے۔اگر خدا اور اس کے رسول کے مقرر کردہ معیار کے مطابق ابھی تک ہماری نگاہ بلند نہیں ہوئی، اگر خدا اور اُس کے رسول کے مقرر کردہ معیار کے مطابق ابھی ہم نے قربانیاں نہیں کیں، اگر خدا اور اُس کے رسول کے مقرر کردہ معیار کے مطابق ہم نے اشاعت اسلام اور اشاعت احمدیت کے لئے جد و جہد نہیں کی تو کم سے کم اس جماعت میں داخل ہوتے وقت جو ہمارے اپنے ولولے اور اپنے ارادے تھے ہمیں غور کرنا چاہیے کہ کیا اُن ولولوں اور اُن عزائم کے مطابق ہم نے اپنا قدم ترقی کے میدان میں بڑھا لیا ہے؟ بیعت کے وقت کی کیفیت ہر بیعت کرنے والا جس دن بیعت کرتا ہے اگر وہ منافق نہیں ہوتا تو خواہ وہ ایمان کے لحاظ سے کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو اُس کے دل میں نئے سے نئے ولولے پیدا ہونے لگ جاتے ہیں۔اُس کے