خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 226
خطابات شوری جلد سوم ۲۲۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء 66 نظر نہیں آتی۔“ ان مختصر کلمات کے بعد حضور نے نمائندگان، مہمانان اور زائرین سمیت لمبی دُعا کروائی۔تشهد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل افتتاحی تقریه افتتاحی تقریرفرمائی۔ہمارا نصب العین اور ترقی " آج ہم یہاں اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ ہم اپنی قربانیوں اور اپنے گزشتہ اعمال اور کردار کا جائزہ لیتے ہوئے اس امر پر غور کریں کہ ہم نے اُن ذمہ داریوں کو کہاں تک ادا کیا ہے جو اشاعتِ اسلام اور اشاعتِ احمدیت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم پر عائد کی گئی ہیں۔ہم یہاں رسماً اکٹھے نہیں ہوئے کسی کھیل اور تماشہ کے لئے اکٹھے نہیں ہوئے محض اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کے لئے اکٹھے نہیں ہوئے۔بلکہ ہم اس لئے اکٹھے ہوئے ہیں کہ زمین و آسمان کے خدا نے ہم پر ایک فرض عائد کیا ہے اور ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ آیا ہم نے اُس فرض کے ادا کرنے میں کسی کوتاہی یا سہل انگاری سے تو کام نہیں لیا ہمارے سلسلہ کو قائم ہوئے ایک لمبا عرصہ گزر چکا ہے۔اتنا لمبا عرصہ کہ اس میں ایک بچہ بھی جوان ہو کر صاحب اولاد ہو جاتا ہے بلکہ وہ پوتوں اور پڑپوتوں والا بن جاتا ہے۔پس ہمیں غور کرنا چاہیے کہ اس عرصہ میں ہم نے کتنی ترقی کی ہے اور پھر ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ کیا ہماری ترقی ہمارے نصب العین کے مطابق ہے یا نہیں؟ دنیا میں ہر ذی حیات چیز حرکت تو ضرور کرتی ہے لیکن دیکھنے والی بات یہ ہوتی ہے کہ کیا اُس کی حرکت اُس کے نصب العین کے مطابق ہے یا نہیں۔ایک بڑھا گھوڑا بھی اگر اُسے تھان سے چھوڑ دیا جائے تو کچھ نہ کچھ حرکت ضرور کرے گا۔لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ گھوڑا ابھی کام کرنے کے قابل ہے جب گھوڑا اپنے اس مقصد کے مطابق دوڑتا ہو جس مقصد کے لئے کوئی گھوڑا رکھا جاتا ہے تب ہم کہیں گے کہ وہ ایک اچھا گھوڑا ہے۔ورنہ ایک مریل گھوڑا بھی کچھ نہ کچھ دوڑ لیتا ہے۔ایک ٹوٹی پھوٹی موٹر۔ایک ٹوٹا پھوٹا انجن بھی اگر اُسے چلایا جائے تو کچھ نہ کچھ چل سکتا ہے۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ جس غرض کے لئے وہ موٹر خریدی گئی تھی اُسے وہ پورا کر رہی ہے یا جس مقصد کے لئے ایک انجن خریدا گیا تھا اُسے وہ پورا کر رہا ہے۔بیمار بچے بھی آخر کچھ نہ کچھ