خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 225
خطابات شوری جلد سو ۲۲۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء ( منعقده ۴ تا ۶ را پریل ۱۹۴۷ء ) پہلا دن جماعت احمدیہ کی ستائیسویں مجلس مشاورت ۴ تا ۶ / اپریل ۱۹۴۷ء تعلیم الاسلام کالج قادیان کے وسیع ہال میں منعقد ہوئی۔کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو محترم حافظ صوفی غلام محمد صاحب نے کی۔اس کے بعد حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے افتتاحی تقریر سے قبل دُعا سے متعلق فرمایا: آج ہم جس اہم کام کے لئے جمع ہوئے ہیں اُس کام کی اہمیت اور سلسلہ کی دعا مشکلات اور ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے ہماری ذمہ داریاں ہم سے تقاضا کرتی ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ سے خصوصیت کے ساتھ یہ دُعا کریں کہ وہ ہماری صحیح راہنمائی فرمائے اور ہمیں ایسے طریق پر چلنے کی توفیق بخشے جس سے اُس کی رضا اور خوشنودی ہمیں حاصل ہو اور وہ مشکلات جو ہمارے رستہ میں حائل ہوں یا جن مشکلات میں سے گزرنا ہمارے لئے ضروری ہو اللہ تعالیٰ اُن تمام مشکلات کو اپنے فضل اور رحم کے ساتھ دُور فرماتے ہوئے ایسے سامان مہیا کرے کہ ہماری مشکلات ہماری کامیابیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوں اور ہمارا قدم ہمیشہ ترقیات کی طرف بڑھتا چلا جائے۔ہم کوئی ایسا کام نہ کریں جو اُسکے منشاء کے خلاف ہواور کوئی ایسا کام نہ چھوڑیں جو اُسکی رضا کے حاصل کرنے کیلئے ضروری ہو۔پس سب دوست میرے ساتھ مل کر دعا کر لیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری صحیح راہنمائی فرمائے۔نہایت ہی نازک ایام ہیں جو آجکل دنیا پر آرہے ہیں اور ایک انتہائی نازک دور ہے جس میں سے ہم گزر رہے ہیں سوائے خدا کی مدد اور اسکی نصرت کے اور کوئی صورت ہمیں ان مشکلات پر غالب آنے کی