خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 8
خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء اُس نے اپنی بعض حکمتوں سے ہمیں بعض ابتلاؤں میں بھی ڈال دیا۔اور جیسا کہ میں بارہا بیان کر چکا ہوں ترقی ایمان کے لئے ابتلاؤں کا آنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ابتلاؤں کے ذریعہ بعض دفعہ اپنے بندوں کو کئی قسم کے بندھنوں سے آزاد کرنا چاہتا ہے تا کہ وہ اس کے دین کی خدمت پوری خوش اسلوبی سے سرانجام دے سکیں۔اور بعض دفعہ ابتلاؤں کے ذریعے وہ قدرت نمائی بھی کرنا چاہتا ہے اور یہ دکھانا چاہتا ہے کہ کام کرنے والا میں ہوں، میر اسلسلہ کسی بندے کی مدد کا محتاج نہیں ہے۔یہ انکشاف مجھ کو غالباً 8 اور 9 جنوری کے درمیان ہوا جب کہ اُمّم طاہر شدید بیمار تھیں۔میں اس دوران میں ایک دو دفعہ قادیان میں بھی آیا لیکن اُن کی بیماری کی وجہ سے مجھے اکثر لا ہور میں ہی ٹھہر نا پڑا اور وہیں ان کی وفات ہوئی جو ذاتی طور پر میرے لئے ایک ابتلاء تھا مگر میں نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ یہ ابتلاء مجھ پر اس لئے لایا ہے تاکہ میں ہر قسم کے بندھنوں سے آزاد ہو کر اُس کے آستانہ پر اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کر دوں۔اس وفات کے ۱۲ دن بعد میر محمد اسحاق صاحب فوت ہو گئے۔اُن کے کام کی وسعت ایسی تھی کہ وہ ایک ہی وقت میں مدرسہ احمدیہ کے بھی ہیڈ ماسٹر تھے ، مہمان خانہ کے بھی افسر تھے ، درس و تدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھتے تھے اور غرباء کی ضروریات کا بھی خاص طور پر خیال رکھتے تھے۔ان کی وفات کے بعد کئی لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اب کیا ہو گا۔حالانکہ الہی کاموں کے متعلق یہ سوال کبھی پیدا نہیں ہوتا کہ اب کیا ہو جائے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب وفات پاگئے اور صحابہ اس صدمہ کو برداشت نہ کرتے ہوئے یہ خیال کرنے لگے کہ اب نہ معلوم کیا ہو گا، یہاں تک کہ حضرت عمرؓ جیسے جلیل القدر انسان نے کہا کہ جو شخص کہے گا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو گئے ہیں میں تلوار سے اُس کی گردن اُڑا دوں گا یا اُس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور اُنہوں نے بڑے زور سے تمام لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اے لوگو ! مَنْ كَانَ مِنْكُمُ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدُمَاتَ۔تم میں سے جو شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبادت کیا کرتا تھا وہ سُن لے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو چکے ہیں۔وَمَنْ كَانَ مِنْكُمُ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَقٌّ لَا يَمُوتُ ! مگر جو شخص