خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 221
خطابات شوری جلد سوم ۲۲۱ رت ۱۹۴۶ء جامعہ احمدیہ کے متعلق چوہدری ظفر اللہ خان جامعہ احمدیہ کے بارہ میں ہدایات صاحب نے مجھے ایک چٹھی لکھی ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے بعض احباب سے اس امر کا ذکر کیا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو جامعہ احمدیہ میں داخل کرائیں۔میری اس تحریک پر وہ آمادہ تو ہو گئے ہیں مگر وہ اس امر کا خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ جامعہ احمدیہ میں مروجہ علوم کی تعلیم کا خاطر خواہ انتظام نہیں اور نہ طلباء میں وسعتِ نظر پیدا کی جاتی ہے۔اسی طرح یہاں صفائی کو بھی پوری طرح ملحوظ نہیں رکھا جاتا۔اگر اس کا ازالہ کر دیا جائے تو لوگ بغیر کسی فکر کے اپنے بچوں کو جامعہ احمد یہ میں داخل کرنے لگ جائیں گے۔میرے نزدیک یہ امور ایسے ہیں جو صدر انجمن احمد یہ کو اپنے مدنظر رکھنے چاہئیں۔جامعہ احمدیہ کا کورس ہمیں بہر حال قریب ترین عرصہ میں ایسا ہی رکھنا پڑے گا جس کے نتیجہ میں طلبہ کو تبلیغ کے کام پر لگایا جا سکے۔دنیوی علوم اور ذرائع سے بھی حاصل کئے جا سکتے ہیں جیسے مولوی فاضل پاس کرنے کے بعد پرائیویٹ طور پر انگریزی کے امتحانات انسان دے سکتا ہے۔اسی طرح صفائی کی طرف بھی صدر انجمن احمدیہ کو توجہ کرنی چاہئے۔جہاں تک مجھے یاد ہے اس بارہ میں ایک تفصیلی سکیم جو میرے سامنے پیش کی گئی تھی میں نے دفتر میں اسی ہدایت کے ساتھ واپس کر دی تھی کہ اسے کسی دوسرے وقت میرے سامنے پیش کر کے ہدایات حاصل کی جائیں مگر پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کو ابھی فرصت ہی نہیں ملی کہ وہ اس سکیم کو میرے سامنے پیش کریں۔بہر حال انجمن کو ان باتوں کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔صفائی اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس کا انسانی صحت پر نہایت گہرا اثر پڑتا ہے۔میں نے بار ہا اپنے خطبات میں اس طرف توجہ بھی دلائی ہے مگر میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ گو میں صفائی کو ضروری سمجھتا ہوں مگر میں اسے کوئی ایسی اہم روک نہیں سمجھ سکتا جس کی بناء پر لوگ اپنے بچوں کو یہاں بھجوانے سے رُک سکیں۔ہم خواہ کس قدر بھی صفائی کریں پھر بھی جس قدر یورپ کے لوگ صفائی رکھتے ہیں ہم یہاں نہیں رکھ سکتے اور اگر اس رنگ کی صفائی میں مشغول ہو جائیں تو دین کا کام نہیں ہوسکتا۔وہ لوگ جو دن رات انہی کاموں میں لگے رہتے ہیں وہ اپنے آپ کو خواہ مہذب سمجھتے ہوں