خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 222

خطابات شوری جلد سوم ۲۲۲ ت ۱۹۴۶ء ہم تو انہیں دین کا غدار ہی سمجھتے ہیں۔انہی خیالات کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ بڑھتے بڑھتے داڑھیوں کا صفایا شروع کر دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ داڑھی رکھنا بڑی گندی چیز ہے، چہرے کو صاف رکھنا چاہئے۔اسی طرح بُوٹ کی پالش ہے انگریزوں کے نزدیک جس کے بوٹ میلے ہوں وہ اس کو غیر مہذب سمجھتے ہیں لیکن میرے بوٹ ہمیشہ میلے رہتے ہیں لوگ بعض دفعہ خود ہی اٹھا کر لے جاتے ہیں اور ثواب حاصل کرنے کے لئے پالش کر دیتے ہیں لیکن پھر بھی جس حد تک صفائی رکھنا انسانی صحت کے لئے ضروری ہے اُس حد تک صفائی ضرور رکھنی چاہئے۔اب تو یہ حالت ہے کہ بعض دفعہ رستوں میں پاخانہ پڑا ہوا ہوتا ہے۔لوگ مرغے ذبح کرتے ہیں تو اُن کی انتڑیاں اور پر وغیرہ سڑکوں پر بکھیر دیتے ہیں۔یہ چیز ایسی ہے جس سے طبائع میں انقباض پیدا ہوتا ہے اور صحت کے لئے بھی مُصر ہے۔میں نے خود بعض دفعہ دیکھا ہے کہ مرغی ذبح کرنے والے نے مرغی ذبح کی تو اُس کی انتڑیاں وغیرہ اُسی جگہ پھینک دیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کہیں کوے ان انتڑیوں کو اٹھائے پھرتے ہیں کہیں پر پکھرے ہوئے ہوتے ہیں، کہیں خون پڑا ہوا ہوتا ہے اور یہ نظارہ دیکھ کر طبیعت پر بہت بوجھ محسوس ہوتا ہے۔نظافت کی جس جو اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں رکھی ہے اس کی غرض یہی ہے کہ ایسے امور کا سدِ باب کیا جائے۔اسی طرح بعض اور بھی شکایتیں ہیں جو میرے پاس وقتاً فوقتاً آتی رہتی ہیں مثلاً ایک شکایت ان متفرق طالب علموں کے متعلق ہے جو یہاں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آتے ہیں مگر اُن کی طرف پوری توجہ نہیں کی جاتی۔صدر انجمن احمدیہ کو ایک ایسا محکمہ بنانا چاہئے جوان متفرق طالب علموں کی ضرورتوں کو پورا کر سکے۔یہ لڑ کے دس دس پندرہ پندرہ دن کے لئے یہاں آتے ہیں کوئی کہتا ہے مجھے پہلا پارہ پڑھا دیا جائے ، کوئی کہتا ہے مجھے آخری پارے کا ترجمہ نہیں آتا، کوئی اردو سیکھنا چاہتا ہے، کوئی عربی پڑھنا چاہتا ہے، اور چونکہ ان کی الگ الگ ضروریات ہوتی ہیں ان کی طرف پوری توجہ نہیں کی جاسکتی۔میرے نزدیک صدر انجمن احمد یہ کو ایسی ضرورتوں کے لئے جماعت میں سے والٹیئر ز طلب کرنے چاہئیں جو ترجمہ پڑھا سکتے ہوں وہ ترجمہ پڑھا دیں۔جو حدیثیں جانتے ہوں وہ حدیثیں سکھا دیں اور ، جو اسلامی مسائل سے واقفیت رکھتے ہوں وہ اُنہیں مسائل سے آگاہ کر دیا کریں۔