خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 219
خطابات شوری جلد سوم ۲۱۹ رت ۱۹۴۶ء اور ہم انہیں ایڈی مار کر پیچھے کی طرف واپس لانا چاہتے تو وہ پھر آگے کو بھاگ پڑتے۔جب اس حالت میں ہمارے کانوں میں یہ آواز آئی کہ اے انصار ! خدا کا رسول تمہیں بلاتا ہے تو اس وقت ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ عباس کی آواز بلند ہو رہی ہے بلکہ ہمیں یوں معلوم ہوتا تھا جیسے سب لوگ مر چکے ہیں قیامت کا دن ہے اور اسرافیل کی آواز لوگوں کے کانوں میں آرہی ہے۔ہم نے ایک دفعہ پھر اپنے اونٹوں اور گھوڑوں کو واپس لوٹانے کے لئے اپنا پورا زور صرف کیا جو سواریاں مُڑ گئیں مُڑ گئیں اور جو نہ مریں ان میں سے بعض کے سوار گود پڑے اور پیدل دوڑتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے اور بعض نے اپنی میانوں میں سے تلواریں نکال کر سواریوں کی گردنیں کاٹ دیں اور خود لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ لَبَّیک کہتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دوڑ پڑ۔و ہر شخص قربانی کا عزم صمیم کرے اس واقعہ پر غور کرو اور دیکھو کہ کس طرح کمزور صمیم لوگ طاقتوروں کو بھی گھبراہٹ میں مبتلا کر دینے کا موجب بن جاتے ہیں۔پس یہ دن ایسے نہیں ہیں کہ ہمارے اندر کوئی کمزور طبقہ ہو کیونکہ اگر کمزور طبقہ ہم میں موجود ہوا تو وہ بہادروں کو بھی گر ا دینے کا موجب بن جائے گا۔آج ہمیں ہر شخص کا دل مضبوط کرنا چاہئے ، آج ہر شخص کو عزم صمیم کرنا چاہئے کہ وہ اسلام کی عظمت اور اس کے احیاء کے لئے ہر قسم کی قربانی پیش کرنے کے لئے تیار رہے گا۔اگر ہم میں سے ہر شخص یہ ارادہ لے کر کھڑا ہو جائے تو جب وہ دن آئے گا جس میں خدا تعالیٰ کے لئے اپنی جانیں اور اپنے اموال قربان کرنا پڑیں گے، جب اسلام کی عظمت اور اُس کی شوکت کے قیام کے لئے مسلمانوں سے اُن کی جان کا مطالبہ کیا جائے گا، جب ایک طرف مَلَكُ الْمَوْت اُن کو بلا رہا ہوگا اور ایک طرف اسلام کی شوکت کا خوش نما منظر ان کو نظر آ رہا ہو گا ، تو اُس وقت جس کی قسمت میں ہو گا وہ اسلام کی شوکت دیکھ کر مرے گا اور جس کی قسمت میں شہادت مقدر ہو گی وہ شہادت حاصل کر کے اپنے رب کی گود میں چلا جائے گا اور یہ دونوں معمولی انسان نہیں ہوں گے فاتح بھی بابرکت ہوگا کیونکہ اس نے خدا تعالیٰ کے نشان کو دیکھا اور مفتوح بھی بابرکت ہوگا کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے شہید کبھی مرتا نہیں۔