خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 7

خطابات شوری جلد سو مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں صحابیت کے درجہ کا حصول نہایت آسان تھا اور ادنیٰ سے ادنی شخص بھی صحابی کہلا سکتا تھا مگر وہ لوگ جن کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رؤیت کا موقع نہیں ملا اُن میں سے صرف وہی صحابیت کا مقام حاصل کر سکے جنہوں نے اپنے دل کی آنکھ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا اور انتہائی قربانیوں سے اپنے آپ کو اس مقام کا مستحق ثابت کیا۔موعود غرض اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں بہت سے لوگوں کے لئے جن کے دلوں میں خواہش تھی کہ کاش وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھتے اور اس طرح صحابیت کا مقام حاصل کر سکتے یہ رستہ کھول دیا کہ اُس نے میری زبان پر یہ الہام جاری فرما دیا کہ انا الْمَسِيحُ الْمَوْعُودُ مَثِيْلُهُ وَخَلِیفَتُهُ مَیں بھی مسیح موعود ہوں اور مسیح موعود کا مثیل اور اُس کا خلیفہ ہوں۔مَشِیلہ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے جہاں اس امر کا اظہار فرما دیا کہ مصلح مو سے تعلق رکھنے والی پیشگوئیاں میری ہی ذات سے وابستہ ہیں وہاں تم میں سے اُن لوگوں کے لئے جن کے دلوں میں صحابیت کا مقام حاصل کرنے کی تڑپ تھی اللہ تعالیٰ نے ایک اور دروازہ کھول دیا۔جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ مبارک وہ جو اب ایمان لایا صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا اسی طرح وہ لوگ جن کا میرے ساتھ محبت اور اخلاص کا تعلق ہے اور جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف خدمات میں میرا ہاتھ بٹانے کی توفیق عطا فرمائی ہے اُن کے متعلق بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے جب مجھ کو پالیا تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ سے جا ملے۔ہزاروں ہزار اور لاکھوں لاکھ افراد جو اس وسیع دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اُن کے متعلق خدا نے یہ دیکھتے ہوئے کہ اس زمانہ میں تلوار سے اسلام نہیں پھیل رہا بلکہ دلائل اور براہین کے ذریعہ پھیل رہا ہے اور دلائل اور براہین کے ذریعہ ہمیشہ آہستہ آہستہ لوگ سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ نے صحابیت کے حل اور اس کے سایہ کو لمبا کر دیا ہے تا کہ ایک عرصہ دراز تک دنیا اس نعمت سے مستفیض ہوتی رہے۔اور صحابیت کے فیض سے مستفیض ہونے والے لاکھوں افراد دنیا میں اسلام اور احمدیت کو پھیلاتے رہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے یہ ایک نیا باب کھول کر اپنی عظیم الشان رحمتوں سے ہمیں نوازا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی