خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 204

خطابات شوری جلد سوم ۲۰۴ رت ۱۹۴۶ء ہم ہمیشہ اپنی جماعت کے افراد سے یہ مطالبہ کیا کرتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی یہ مطالبہ فرمایا کرتے تھے کہ خدا کے لئے اپنی جانوں اور مالوں کو۔وقف کر دو لیکن ہر زمانہ میں یہ معیار بدلتا چلا گیا ہے پہلے دن جب لوگوں نے اس آواز کو سُنا تو وہ آگے آئے اور اُنہوں نے کہا ہماری جان اور ہمارا مال حاضر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کے جواب کو سُنا اور فرمایا تم نمازیں پڑھا کرو، روزے رکھا کرو، اسلام اور احمدیت کو پھیلایا کرو اور اپنے مالوں میں سے کچھ نہ کچھ دین کی خدمت کے لئے دے دیا کرو چاہے روپیہ میں سے دھیلہ ہی کیوں نہ ہو۔لوگوں نے یہ سُنا تو ان کے دلوں میں حیرت پیدا ہوئی کہ کام تو بہت معمولی تھا پھر ہمیں یہ کیوں کہا گیا تھا کہ آؤ اور اپنی جانیں اور اپنے اموال قربان کر دو۔کچھ وقت گزرا تو لوگوں کو پھر آواز دی گئی کہ جان اور مال کی قربانی کا وقت آگیا ہے ، لوگ پھر اپنی جانیں اور اموال لے کر حاضر ہوئے تو انہیں کہا گیا تم روپیہ میں ایک پیسہ چندہ دے دیا کرو۔اس پر کچھ مدت گزری تو مرکز کی طرف سے پھر آواز بلند ہوئی کہ آؤ اپنی جانیں اور اپنے اموال دین کی خدمت کے لئے وقف کر دو۔لوگ پھر آگے بڑھے تو اُنہیں کہا گیا کہ آئندہ پیسہ کی بجائے دو پیسہ روپیہ چندہ دیا کرو۔یہ حالت اسی طرح بڑھتی چلی گئی دھیلے سے یہ آواز شروع ہوئی تھی ، پھر پیسہ پر پہنچی ، پھر وہ دو پیسہ پر پہنچی پھر کہا گیا اب دو پیسے کا بھی سوال نہیں تین پیسے دیا کرو۔تین پیسے دیتے رہے تو کہا گیا اب چار پیسے دیا کرو۔پھر وقت آیا تو کہا گیا کہ اپنی جائیدادوں اور اپنی آمدنیوں کی وصیت کرو اور اس وصیت میں بھی کم سے کم دسویں حصہ کا مطالبہ کیا گیا۔پھر کہا گیا کہ دسواں حصہ بہت کم ہے تمہیں نواں حصہ دینے کی کوشش کرنی چاہئے اور جن کو خدا تعالیٰ توفیق عطا فرمائے وہ اس سے بھی بڑھ کر قربانی کریں۔وہ لوگ جن کو خدا تعالیٰ نے سمجھنے والا دل اور غور کرنے والا دماغ دیا ہے وہ تو جانتے ہیں کہ ہم کو قدم بقدم اس مقصد کے قریب کیا جا رہا ہے جس کے بغیر تو میں کبھی زندہ نہیں رہ سکتیں لیکن بعض لوگ اپنی نادانی سے یہ سمجھتے ہیں کہ یہ قربانی اور ایثار کے الفاظ جو متواتر استعمال کئے جاتے ہیں حقیقت سے بالکل خالی ہیں۔قربانی اور ایثار کے مالی لحاظ سے صرف اتنے معنے ہیں کہ روپیہ میں سے آنہ دے دیا یا آنہ نہ دیا تو ڈیڑھ آنہ دے دیا۔اور وقت کی قربانی کے لحاظ سے اس کے صرف اتنے معنے ہیں