خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 201
خطابات شوری جلد سوم ت ۱۹۴۶ء در حقیقت انسانی اعمال کا ظہور بالکل ایسا ہی رنگ رکھتا ہے جیسے بچپن میں ہم اینٹوں کی کھیل کھیلا کرتے تھے۔پچاس ساٹھ یا سو اینٹیں قریب قریب اتنے فاصلہ پر کھڑی کر دی جاتی تھیں کہ جب ایک اینٹ کو دھگا دیا جائے تو دوسری پر گرے اور دوسری تیسری پر اور تیسری چوتھی پر چنانچہ جب اینٹیں ایک قطار میں کھڑی کر لی جاتیں تو ہم ایک اینٹ کو ہاتھ کی اُنگلی سے ہلکا سا دھکا دے دیتے۔اس وقت ایک عجیب نظارہ نظر آتا تھا کہ ٹھک ٹھک کر کے تمام اینٹیں ایک دوسری پر گرنی شروع ہو جاتیں اور کوئی ایک اینٹ بھی کھڑی نہ رہ سکتی۔اسی طرح ایک انسان کی چھوٹی سی حرکت بعض دفعہ بہت بڑی تباہی کا موجب بن جاتی ہے خواہ وہ حرکت ایک ادنی انسان کی طرف سے ہو یا بڑے انسان کی طرف سے۔بسا اوقات چوڑھوں میں پیدا شدہ حرکت بادشاہوں تک چلی جاتی ہے اور بادشاہوں کی حرکت بَيْنَ الْأَقْوَامِي جنگوں کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔انھدنا الصراطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ انْعَمْتَ علَيْهِمْ میں انسان یہی عرض کرتا ہے کہ الہی میں چھوٹا ہوں، ذلیل ہوں، کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتا مگر پھر بھی ہو سکتا ہے کہ میرے زریعہ کوئی ایسا فساد ہو جس سے ساری دُنیا تباہ ہو جائے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میں کسی ایسی نیکی کی بنیا د رکھ دوں جو ساری دُنیا کو درست کر دے۔اس لئے اے خدا! تجھ سے میں درخواست کرتا ہوں کہ تو مجھے ایسے راستہ پر چلا جس کے نتیجہ میں میرے ذریعہ سے دُنیا میں نیکیوں کی بنیاد قائم ہو، بدیوں کی بنیاد قائم نہ ہو۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے ادنیٰ سے ادنی انسان سے بھی ایسے کام ہو سکتے ہیں جن سے دُنیا تباہ ہو جائے اور ایسے کام بھی ہو سکتے ہیں جن سے دُنیا سنور جائے۔ہم ایک ایسے مقام پر ہیں کہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں دُنیا کی آئندہ روحانی تبدیلی ہماری تبدیلی سے وابستہ ہے۔جس قدر ایمان کی مضبوطی ہمارے دلوں میں ہوگی، جس قدر تقوی ہمارے دلوں میں قائم ہو گا، دنیا اس کے پر تو اور عکس کو قبول کرے گی اس لئے ہمیں بہت زیادہ فکر اور اندیشہ سے اپنی دعاؤں میں اور اپنی نمازوں میں اور اپنے اذکار میں خدا تعالیٰ سے تقویٰ مانگنا چاہئے اور خود بھی اپنے اندر تقویٰ قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔جو شخص مانگتا ہے مگر خود اس مقصد کے حصول کے لئے کوئی کوشش نہیں کرتا وہ فریبی ہے اگر وہ تقویٰ مانگنے میں سچا ہوتا تو خود بھی اپنے نفس میں اس کو قائم کرنے کی کوشش کرتا۔