خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 193
خطابات شوری جلد سوم ۱۹۳ اورت ۱۹۴۶ء اس کے فیصلہ کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرے تو اُس کا فرض ہے کہ وہ مرکز میں اپنا معاملہ پیش کرے۔ایک صورت تو یہ ہے کہ جماعت کے افراد کہیں ہم یوں فیصلہ چاہتے ہیں اور امیر کہے کہ نہیں یوں ہونا چاہئے اور جماعت کہہ دے کہ اچھا جس طرح آپ کی مرضی ہو کر لیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔لیکن دوسری صورت یہ ہے کہ امراء اور جماعتوں میں اختلاف واقع ہو جائے اگر کسی جماعت میں ایسا اختلاف واقع ہو جاتا ہے تو جیسا کہ قاعدہ ہے امیر کو اپنی جماعت کا معاملہ مرکز میں پیش کرنا چاہئے مگر میرے سامنے اب تک ایک مثال بھی اس قسم کے جھگڑے کی نہیں آئی جس کے معنے یہ ہیں کہ کبھی بھی امراء نے جماعت کی رائے کو نہیں تو ڑا یا ایسی صورت میں نہیں توڑا کہ جماعت اپنی رائے پر مصر رہی ہو پھر شکایت کیسی۔یا امراء جماعت کی رائے کو کبھی توڑتے ہی نہیں اس صورت میں بھی شکایت کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔اور یا پھر امراء جماعت کی رائے کو توڑتے تو ہیں مگر مرکز کو اطلاع نہیں دیتے اس صورت میں وہ خود قانون شکنی کے مرتکب ہوتے ہیں۔اور جب وہ اپنے لئے قانون کی پابندی ضروری نہیں سمجھتے تو قانون اُن کی کس طرح حفاظت کر سکتا ہے۔یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ کوئی وجودشتی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی قانون سے بالا نہیں ہیں۔اس لئے ہر امیر کو یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ وہ اپنے عہدہ کے لحاظ سے جماعت کے دیگر افراد سے بالا ہو پھر بھی جو قانون ہے اس کی پابندی اُس کے لئے ضروری ہے۔اگر وہ قانون کی پوری پابندی کریں تو کوئی جھگڑا ہو ہی نہیں سکتا۔جیسے میں نے بتایا ہے کہ اگر ہمارے سامنے کسی جماعت کی طرف سے ایسا جھگڑا آئے تو ہم اُس جماعت کے امیر کے سامنے یہ بات پیش کر دیں گے کہ یا تو تم جماعت کو اپنے ساتھ چلاؤ اور یا پھر جماعت کو اپنے ساتھ چلانے کی بجائے خود جماعت کے پیچھے چلو۔اگر یہ دونوں باتیں نہ ہو سکیں تو ہم دیکھیں گے کہ اس امیر کے بغیر کام چل سکتا ہے یا نہیں۔اگر چل سکتا ہو تو ہم اس کی بجائے کسی اور کو امیر مقرر کر دیں گے۔اور اگر یہ دیکھیں گے کہ اس کے بغیر کام نہیں چل سکتا تو ہم مقامی مجلس عاملہ کو توڑ دیں گے اور یہ فیصلہ کریں گے کہ چونکہ جماعت روحانیت میں گر چکی ہے اور اپنے جھگڑے کو کسی صورت میں بھی ترک کرنے کے لئے تیار نہیں اس لئے ہم مجلس عاملہ کوتوڑ دیتے ہیں۔