خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 192

خطابات شوری جلد سوم ۱۹۲ رت ۱۹۴۶ء اصلاح نہیں ہوتی اب ان کا اور میرا اختلاف اس قدر بڑھ گیا ہے کہ نہ یہ لوگ میرے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں اور نہ میں ان کی بات مان سکتا ہوں تو ایسی صورت میں مرکز میں اپنا معاملہ پیش کرنا چاہئے۔مرکز کی طرف سے کوئی اور امیر مقرر ہو جائے گا اور جھگڑا ختم ہو جائے گا لیکن اگر دونوں صورتیں نہ ہوں نہ امیر پیچھے ہٹنے کے لئے تیار ہو اور نہ جماعت اپنی رائے بدلنے پر آمادہ ہو تو اس کا نتیجہ سوائے بے برکتی کے اور کچھ پیدا نہیں ہوسکتا۔اور یہ ویسی ہی بات ہے جیسے کوئی امام نماز پڑھاتا چلا جائے اور جماعت اس سے نفرت رکھے۔جس طرح وہ امامت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق جائز نہیں اسی طرح امارت بھی جوز بر دستی کی ہو اسلامی نقطہ نگاہ سے جائز نہیں سوائے اس کے کہ جب امیر کی طرف سے مرکز میں معاملہ پیش ہو تو مرکز سمجھے کہ گو اس اختلاف کو مٹانے کی کوئی صورت نہ ہو مگر امیر کا قائم رہنا ضروری ہے۔ایسی حالت میں مرکز کا فرض ہے کہ وہ امیر کو قائم رکھے اور مجلس عاملہ تو ڑ کر ایک نئی مجلس عاملہ بنائے یا امیر کو کہے کہ وہ پہلی مجلس عاملہ کو توڑ دے اور نئی مجلس عاملہ کی تشکیل عمل میں لائے جو امیر کے ساتھ تعاون کرے۔چوتھی بات اسلام یہ بتاتا ہے کہ امام وقت اپنے فیصلہ میں شریعت امراء کے اختیارات ماتحت سے بالا نہیں۔اس صورت میں بھی ہمارے لئے ایک کے بڑی مشکل آسان ہو جاتی ہے جس طرح قانونِ شریعت بالا ہے اور امام وقت چاہے نبی ہو یا خلیفہ اس کے تابع ہے، اسی طرح امراء کو بھی سمجھنا چاہئے کہ جو قوانین بنائے گئے ہیں ان کے وہ تابع رہیں امراء کے اختیارات کے یہ معنے نہیں کہ وہ قوانین سے بالا ہو جاتے ہیں بلکہ اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ امراء کا فرض ہے کہ وہ شرعی قوانین کو بھی ملحوظ رکھیں اور جماعتی قوانین کو بھی ملحوظ رکھیں۔سارے جھگڑے اسی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ امراء کی طرف سے قوانین کی پوری پابندی نہیں کی جاتی۔یہ تو پتہ لگتا ہے کہ بعض مقامات پر امراء نے جماعتوں سے اختلاف کیا ہے مگر کم سے کم ایک مثال بھی مجھے ایسی یاد نہیں کہ ان جھگڑوں کو ہمارے سامنے پیش کیا گیا ہو جس کے معنے یہ ہیں کہ امراء یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے مرکز میں اپنا معاملہ پیش کیا اور ہمارے خلاف فیصلہ ہو گیا تو ہماری ہتک ہو گی حالانکہ ہمارا قانون یہ ہے کہ جب کبھی امیر جماعت کی رائے سے اختلاف کرے اور جماعت