خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 191

خطابات شوری جلد سوم ۱۹۱ رت ۱۹۴۶ء بہت کوشش کی کہ جماعت میرے ساتھ چلے اور میں نے اپنا پورا زور لگا لیا مگر جماعت میرے ساتھ چلنے کے لئے تیار نہیں ہے اور چونکہ ہم امارت کے متعلق کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے ہمیشہ جماعت کی رائے دریافت کر لیا کرتے ہیں اور کثرتِ رائے جس کی تائید میں ہو اُسی کے حق میں فیصلہ کیا کرتے ہیں اس لئے جب ایسا معاملہ مرکز کے سامنے پیش ہوگا اور مرکز دیکھے گا کہ جماعت کی کثرت نے خود اس امیر کا انتخاب کیا تھا تو ہم اُس جماعت سے دریافت کر سکیں گے کہ جب تم نے خود فلاں شخص کا نام امارت کے لئے پیش کیا تھا اور تمہاری جماعت کی اکثریت نے اس کی تائید کی تھی تو اب تم کیوں اس کے ساتھ تعاون نہیں کر سکتے۔اگر ہم دیکھیں گے کہ انتخاب تو بے شک جماعت نے کیا تھا مگر اس سے اپنے حق کا استعمال کرنے میں غلطی ہوگئی تھی تو ہم اسے کہ دیں گے کہ اب تم اپنے لئے اور امیر منتخب کر لو اور اس جھگڑے کو جانے دو۔بہر حال دو صورتوں میں سے ایک صورت ضروری ہے یا تو امیر کو چاہئے کہ وہ جماعت کو اپنے ساتھ ملالے اور یا پھر جماعت کو چاہئے کہ وہ اپنی رائے کو قربان کر کے امیر کے ساتھ مل جائے۔اگر کسی جماعت میں اختلاف واقع ہو جاتا ہے تو اس اختلاف کو رفع کرنے کی پہلی صورت یہ ہوتی ہے کہ امیر اُس جماعت کو اپنے ساتھ ملائے یا آپ اُس جماعت کے ساتھ ملنے کی کوشش کرے۔اگر دیکھے کہ ہمارا جن باتوں میں اختلاف واقع ہو رہا ہے وہ بہت معمولی ہیں تو اُسے اپنی رائے کو قربان کر دینا چاہئے اور کہنا چاہئے کہ میں اپنی رائے پر کیوں زور دوں۔جس طرح وہ غلطی کر سکتے ہیں اسی طرح میں بھی غلطی کر سکتا ہوں مجھے اس وقت اختلاف کو بڑھانا نہیں چاہئے بلکہ اتحاد کو قائم رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔لیکن اگر وہ دیکھے کہ معاملات اہم ہیں اور جماعت کے کسی حصہ کی طرف سے فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو اُس کا دوسرا فرض یہ ہے کہ وہ جماعت کے افراد کی اصلاح کی کوشش کرے۔اُنھیں نصیحت کرے سمجھائے اور بتائے کہ یہاں زید اور بکر کا سوال نہیں بلکہ سلسلہ کی عظمت اور اس کے وقار کا سوال ہے۔تم اس اختلاف کو جانے دو اور اپنی اصلاح کی کوشش کرو لیکن اگر یہ دونوں صورتیں نہ چل سکیں ، امیر سمجھے کہ میں جماعت کے ساتھ موافقت نہیں کر سکتا اور جماعت سمجھے کہ وہ امیر کے ساتھ موافقت نہیں کر سکتی اور امیر اس یقین پر قائم ہو کہ میں نے اپنا سارا زور لگا لیا ہے مگر پھر بھی جماعت کی