خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 189
خطابات شوری جلد سوم ۱۸۹ رت ۱۹۴۶ء محدود افراد اپنے کام میں ماہر رہیں گے اور وہ آئندہ نسلوں اور جماعت کے دوسرے افراد کو ذمہ داری کے کام سنبھالنے کا اہل نہیں بنائیں گے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک کے بعد دوسرا لیڈر پیدا نہیں ہوگا اور کام کو نقصان پہنچے گا۔پس ہمیں اپنے موجودہ کاموں کی سہولت کو نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ جماعت کے افراد کے دماغوں کی زیادہ سے زیادہ تربیت ہوتی چلی جائے اور اس غرض کے لئے وہی مدارس کافی نہیں جو نام کے مدارس ہیں بلکہ وہ مدر سے بھی ضروری ہیں جن میں جماعت کے تمام افراد شامل ہوتے ہیں اور جہاں جماعتی کاموں پر افرادِ جماعت کو تنقید کرنے اور ان کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے کے متعلق اپنی تجاویز پیش کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ایک گزشتہ مجلس شوریٰ میں جب کثرتِ رائے سے یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ جماعت کے تمام افراد کی بجائے مجلس منتخبہ کے سپر د انتخاب کا کام کیا جائے تو گو میں نے کثرت رائے کے حق میں فیصلہ کر دیا تھا مگر میری رائے چھپی ہوئی موجود ہے میں نے کہا تھا کہ مجھے اس تجویز پر اطمینان نہیں مگر چونکہ جماعت کہتی ہے کہ ایسا کیا جائے اس لئے میں اسے منظور کرتا ہوں۔اب بھی جس تجویز کی تائید جماعت نے کثرت آراء سے کی ہے ویسی ہی ہے اور جماعت کو ایک حق دینے کی بجائے مجلس منتخبہ کو حق دے دیا گیا۔میرا منشاء تھا کہ جماعت کا حق جماعت کے پاس ہی رہتا مگر چونکہ اب پھر خود جماعت نے اپنی کثرتِ رائے سے مجھے یہ مشورہ دیا ہے اس لئے میں کثرتِ رائے کا احترام کرتے ہوئے اسے منظور کرتا ہوں۔اسلام کے زریں اصول لیکن میں جماعت کے دوستوں کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ اسلام نے کبھی ووٹنگ کو رم نہیں رکھا۔آخر اس میں حرج کیا ہے کہ جب لوگ نماز کے لئے مسجد میں جمع ہوں تو ان کے سامنے مسئلہ پیش کر دیا جائے اور معلوم کر لیا جائے کہ ان کی کیا رائے ہے۔یہ چیزیں جو آجکل دکھائی دیتی ہیں یہ تو بعض فتنوں سے بچنے کے لئے اختیار کی گئی ہیں ورنہ تمام اسلامی مسائل میں نہ ہمیں ووٹنگ کا پتہ چلتا ہے اور نہ کورم کا پتہ چلتا ہے۔پس ایک تو یہ اصل ہے جسے کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔دوسرا اصل اسلام یہ پیش کرتا ہے کہ کام بہر حال ہونا چاہئے اگر اس کام میں کوئی روک بنتا ہے اقلیت روک بنتی ہے یا اکثریت روک بنتی ہے تو اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔