خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 175

خطابات شوری جلد سوم ۱۷۵ ت ۱۹۴۶ء اپنے آدمیوں کو بھجوانے میں بعض وقتیں ہیں جن کو دور کرنے کے لئے کوشش کی جا رہی ہے جب یہ وقتیں دور ہو جائیں گی تو ہم انشاء اللہ ایسٹ افریقہ میں بھی پہنچ کر تبلیغ کے علاوہ اپنی تجارتی سکیم کو بھی وسیع کریں گے اور نہ صرف تبلیغ کو وسیع کریں گے بلکہ تبلیغ کے اخراجات کا ایک حصہ بھی مقامی جماعت کے دوست برداشت کر سکیں گے۔امریکہ میں بھی ایک سکیم زیر غور ہے اور خط و کتابت جاری ہے اگر وہ سکیم کامیاب ہوگئی تو امریکہ کے تبلیغی اخراجات کا ایک حصہ بھی اس میں سے نکل سکے گا۔منعت و حرفت کی اہمیت صنعت و حرفت بھی کسی قوم کی مضبوطی اور اُس کی ترقی کے لئے نہایت ضروری چیز ہوتی ہے اور ہر وہ قوم جو دُنیا میں عزت اور نیک نامی کے ساتھ زندہ رہنا چاہتی ہے اُس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ صنعت و حرفت میں ترقی کرنے کی کوشش کرے۔ہماری جماعت کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ جہاں اور کاموں میں حصہ لے وہاں صنعت و حرفت کے ذریعہ بھی جماعت کی عزت اور اس کے وقار کو بڑھانے کی کوشش کرے واقعہ یہ ہے کہ جس طرح تجارت تبلیغ کے میدان کو وسیع کرتی ہے اسی طرح صنعت و حرفت بھی تبلیغی میدان کو وسیع کرنے میں بہت بڑا دخل رکھتی ہے۔صنعت و حرفت میں ترقی کرنے سے قوم کا نام مشہور ہوتا ہے اور یہ نام تبلیغی نقطہ نگاہ سے نہایت مفید نتائج پیدا کرنے کا موجب بن جاتا ہے۔کچھ عرصہ ہوا میں لاہور گیا تو سائنس کے ایک پروفیسر مجھے ملنے کے لئے آئے انہوں نے باتوں باتوں میں ذکر کیا کہ میں تو قادیان کی صنعتی ترقی کو دیکھ کر حیران رہ گیا ہوں۔میں نے قادیان کی بجلی کی بنی ہوئی ایسی چیزیں دیکھی ہیں کہ مجھے حیرت آ گئی۔میں خیال کرتا تھا کہ یہ چیزیں ہندوستان میں بن ہی نہیں سکتیں مگر میری حیرت کی کوئی حد نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ قادیان کے کارخانوں میں یہ چیزیں آجکل تیار ہو رہی ہیں اور ہندوستان میں عام طور پر فروخت ہو رہی ہیں۔اس کے بعد وہ مذہبی باتوں کی طرف آگئے اور دیر تک مختلف مسائل پر تبادلہ خیالات کرتے رہے اب دیکھو انھیں ہماری جماعت سے دلچسپی محض صنعت و حرفت کی ترقی دیکھ کر پیدا ہوئی انہوں نے جب دیکھا کہ قادیان کے کارخانے ایسا مال تیار کر رہے ہیں جو پہلے ولایت سے آیا کرتا تھا تو اُن کی طبیعت پر اس کا غیر معمولی اثر