خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 174
خطابات شوری جلد سوم ۱۷۴ ت ۱۹۴۶ء کلکتہ، کوئٹہ، پشاور، لاہور، دہلی، ہیر نیگرہ ، ڈھاکہ، شیلانگ دار جیلنگ اور سیلون میں بھی کام شروع کر دے اور پھر رفتہ رفتہ سارے علاقوں میں اس کام کو وسیع کر دیا جائے۔جیسا کہ میں نے کہا ہے ہمارا پہلا قدم یہ ہے کہ ہم پانچ ہزار افراد ہندوستان کے مختلف مقامات میں پھیلا دیں۔جب ہم اس تعداد کو پورا کر لیں گے جس کے معنے یہ ہوں گے کہ ہم نے ہندوستان کے تمام بڑے بڑے شہروں اور قصبات میں تجارتی مرکز قائم کر دیئے ہیں تو ہمارا دوسرا قدم یہ ہوگا کہ ہم چھوٹے چھوٹے قصبات میں بھی اپنے آدمیوں کو پھیلا دیں اور اس کے لئے ہمیں ۲۵ ، ۳۰ ہزار آدمیوں کی ضرورت ہو گی۔یوں تو ہندوستان کے بڑے شہر ۵ ہزار نہیں ہیں۔میں نے پانچ ہزار افراد کی شرط اس لئے رکھی ہے کہ بعض اتنے بڑے شہر ہیں کہ ایک ایک شہر میں ہم دس دس پندرہ پندرہ ہیں ہیں آدمی بھی رکھ سکتے ہیں بلکہ یہ بھی اس شہر کے لحاظ سے کم ہی سمجھے جائیں گے۔ویسٹ افریقہ میں اس وقت تک جو تبلیغ ہو رہی ہے وہ زیادہ تر مقامی جماعت کے چندہ سے ہوتی ہے۔چنانچہ گولڈ کوسٹ کی جماعت چالیس ہزار روپیہ سالانہ چندہ دیتی ہے اس کے علاوہ اگر دوسری جماعتوں کا چندہ بھی ملا لیا جائے تو ویسٹ افریقہ کی جماعتیں ستر اسی ہزار روپیہ سالانہ خرچ کر رہی ہیں۔اب چونکہ زیادہ تنظیم ہو رہی ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ قریب زمانہ میں ہمیں ویسٹ افریقہ کا بجٹ اڑھائی تین لاکھ روپیہ رکھنا پڑے گا اور چونکہ یہ بوجھ موجودہ حالت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا اس لئے میں نے تجویز کیا ہے کہ مغربی افریقہ میں تجارت کے سلسلہ کو وسیع کیا جائے۔اس وقت بھی ویسٹ افریقہ کی تمام تجارت یا ہندوستانیوں کے ہاتھ میں ہے یا شامیوں کے ہاتھ میں ہے مگر شامی ملکی باشندوں سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ہم نے جو سکیم تیار کی ہے اس کے ماتحت تجارت کرنے والوں کی ملکی باشندوں سے بھی دلچسپی قائم رہے گی۔چنانچہ ہم نے اپنے کام کرنے والے دوستوں کو ہدایات دے دی ہیں کہ وہاں مشترکہ تجارتی ادارے قائم کریں تاکہ وہاں کی آبادی کو بھی فائدہ پہنچے اور جماعت کی مالی حالت بھی مضبوط ہو۔ایسٹ افریقہ میں بھی اسی قسم کی ایک سکیم مد نظر ہے اور وہاں کی جماعت نے اس کے متعلق مشورہ کر لیا ہے۔اُنہوں نے ہم سے اس غرض کے لئے آدمی مانگے ہیں مگر ہمیں