خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 153

خطابات شوری جلد سوم ۱۵۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء جو قانون بن چکا ہو اُسے بدلوانا چاہئے یا پھر عمل کرتے ہوئے مرنا بھی پڑے تو مرجانا چاہئے۔رائے شماری کے بعد حضور نے فرمایا : - ” جیسا کہ میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ محصلین کو تشخیص بجٹ میں امداد دینے کے لئے لگانا چاہئے اور وقت پر تعاون کر کے جماعتوں سے فارم پُر کرانے چاہئیں میں اس تجویز کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں۔“ اختتامی اجلاس سفارش پیش کی : - پریل ۱۹۴۵ء کو مجلس مشاورت کے آخری اجلاس میں حضرت مرزا شریف احمد صاحب نے سب کمیٹی نظارت دعوت وتبلیغ کی حسب ذیل وقت آ گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منشاء کے ماتحت نظارت دعوۃ و تبلیغ کے زیر اہتمام قادیان میں ایک مذہبی کانفرنس کی جائے۔تفصیلی قواعد بنانے کے لئے ایک سب کمیٹی بنا دی جائے۔اس کا نفرنس کے اخراجات کے لئے مبلغ دو ہزار روپیہ اس بجٹ میں رکھا جائے۔سب کمیٹی کی بحث کے دوران میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ مندرجہ اشتہار خطبہ الہامیہ پڑھ کر سنائے گئے۔بالآخر میں ایک ضروری امر کی طرف اپنے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس مینارہ میں ہماری یہ بھی غرض ہے کہ مینارہ کے اندر یا جیسا کہ مناسب ہو ایک گول کمرہ یا کسی اور وضع کا کمرہ بنا دیا جائے جس میں کم سے کم ۱۰۰ آدمی بیٹھ سکے اور یہ کمرہ وعظ اور مذہبی تقریروں کے لئے کام آئے گا۔کیونکہ ہمارا ارادہ ہے کہ سال میں ایک یا دو دفعہ قادیان میں مذہبی تقریروں کا جلسہ ہوا کرے اور اس جلسہ پر ہر ایک شخص مسلمانوں اور ہندوؤں اور آریوں اور عیسائیوں اور سکھوں میں سے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے مگر شرط یہ ہوگی کہ دوسرے مذہب پر کسی قسم کا حملہ نہ کرے۔فقط اپنے مذہب اور اپنے مذہب کی تائید میں جو چاہے