خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 151

خطابات شوری جلد سوم ۱۵۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء تو اُس نے کہا میں خدا اور اُس کے رسول کے لئے نہیں لڑا بلکہ فلاں کا بدلا لینے کے لئے لڑ رہا تھا۔پھر زخموں کی تکلیف برداشت نہ کرتا ہوا خود کشی کر کے مر گیا۔یہ دیکھ کر وہ صحابی واپس لوٹے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا۔اَشْهَدُ اَنْ لَّا إلهَ إِلَّا اللهُ وَاَشْهَدُ اَنَّكَ لَرَسُولُ اللهِ- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے؟ صحابی نے کہا آپ نے ایک شخص کے متعلق فرمایا تھا کہ وہ جہنمی ہے مگر بعض نے کہا وہ تو بہت اخلاص سے لڑ رہا ہے وہ کیونکر جہنمی ہو سکتا ہے۔اس پر میں اُس کے ساتھ ساتھ رہا۔اب وہ خود کشی کر کے مرگیا ہے۔یکے اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اَشْهَدُ انِي رَسُولُ اللہ میں شہادت دیتا ہوں کہ میں خدا کا رسول ہوں۔تو اُس شخص کا خدمت کرنا اُسے بُری نہیں قرار دے گیا۔بہر حال اگر کوئی شخص قانون شکنی کرتا ہے یا قانون شکنی کی روح پیدا کرتا ہے تو وہ مجرم ہے اور قابل گرفت ہے مگر نظارتوں میں دیکھا گیا ہے کہ بجائے یہ تسلیم کرنے کے کہ قانون شکنی کی گئی ہے کہا یہ جاتا ہے کہ اس پر عمل کرنا ہی ناممکن تھا۔مثلاً یہی محصلین کے دورہ کا سوال تھا۔اگر یہ کہا جاتا کہ ان کا دورہ کرنا بجٹ کی تشخیص کے لئے ضروری تھا مگر ایسا طوفان آ گیا کہ راستے بند ہو گئے تو اور بات تھی۔یہ قانون شکنی نہ ہو گی مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ دورہ کرنا کیوں ناممکن تھا۔پھر ناظر نے یہ جواب دیا ہے کہ میرے نزدیک شہری جماعتوں کو بجٹ خود تشخیص کرنا چاہئے۔اسی طرح دیہاتی جماعتوں کے متعلق یہ جواب نہیں دیا کہ اتنے محصل نہیں کہ سب جماعتوں میں دورہ کر سکتے بلکہ یہ کہا ہے کہ دوسرے کاموں میں مصروف رہے۔نظارت کا کام تھا کہ محصلوں کو اس کام پر لگا دیتی کہ فارم پُری کرائیں۔پھر جتنا کام ہو سکتا اُن سے کرایا جاتا اور باقی کے لئے کہہ دیا جاتا کہ بقیہ کام میرے اختیار کا نہ تھا ، تو یہ درست ہوتا کہ جتنا کام ہو سکتا تھا اُتنا کرالیا گیا۔۴ محصلین سے چار سو جماعتوں کے بجٹ کی تشخیص کرانا ممکن نہ تھا۔اگر یوں کہا جا تا تو یہ معقول بات ہوتی لیکن اس کی بجائے یہ کہا گیا ہے کہ ۱۴ محصلین سے فلاں فلاں کام کرایا گیا اس لئے بجٹ کی تشخیص نہیں کر سکے۔یہ صریح قانون شکنی ہے۔ان کا اصل کام بجٹ تیار کرانا ہے نہ کہ دوسرے کام کرانا۔اس کا جواب اظہار ندامت تھا۔میں اس وقت پھر اعلان کرتا ہوں کہ محصلین کے متعلق