خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 150

خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء کہا تھا کہ میں ایسا نظام قائم کرنا چاہتا ہوں کہ یہ مشکل دُور ہو جائے۔جب ایک بات بالبداہت ثابت ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ خلیفہ کی سمجھ میں نہ آئے ورنہ یہ کہنا پڑے گا کہ نعوذ باللہ خدا تعالیٰ سب سے بڑے بے وقوف کو خلیفہ بناتا ہے اور بالفرض کوئی بات خلیفہ کی سمجھ میں نہ آئے۔تو بھی خلیفہ کا ہی فیصلہ ماننا چاہئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہو سکتا ہے کہ میں کوئی ایسا فیصلہ کروں جو درست نہ ہو اور قرآن کریم کہتا ہے کہ ایسا ہوسکتا ہے کہ رسول کریم کا فیصلہ غلط ہو لیکن تم اگر اسے نہ مانو گے تو کافر ہو جاؤ گے۔غرض غلطی کا امکان تو ہر جگہ موجود ہے۔ہو سکتا ہے کہ خلیفہ کا کوئی فیصلہ غلط ہو۔اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ خلیفہ میں عقل تو ہے لیکن فیصلہ غلط کیا گیا ہے تو بھی تمہارا فرض ہے کہ اس کی تعمیل کرو۔اپنا صحیح فیصلہ اُس کے مقابلہ میں لاکر نظام کی جڑ کو نہیں کاٹنا چاہئے۔مگر میں دیکھتا ہوں برابر یہ طریق انجمن کا چلا جاتا ہے کہ خلیفہ کے فیصلہ کی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یا صدرانجمن کے موجودہ نظام میں تبدیلی کی ضرورت ہے یا بعض لوگوں میں منافقت پائی جاتی ہے۔کیونکہ صدر انجمن اور ناظر خلافت کے فیصلوں کے لئے روک ثابت ہو رہے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ اپنی مرضی کریں اور خلافت کے فیصلے روک دیں۔ایک ناظر کو سزا کے طور پر ہٹا دیا گیا ہے کیونکہ اُس نے بار بار میرے فیصلوں کو رڈ کیا اور جماعت کے اموال کو ضائع کیا۔گواس کی عزت کی خاطر یہ کہا گیا ہے کہ وہ ریٹائر ہوا ہے۔میں سمجھتا ہوں وقت آچکا ہے کہ اس خرابی کو دور کر دیا جائے۔ایک ناظر کو تو میں نے ہٹا دیا ہے۔اگر یہی بات جاری رہی تو دوسروں کی نسبت بھی فیصلہ کر دیا جائے گا اور کسی کی پرواہ نہ کی جائے گی۔بعض لوگوں کو یہ غلطی لگتی ہے کہ چونکہ بہت کام کرتے ہیں اس لئے غلطیاں ہو جاتی ہیں اور اس سے کوئی حرج نہیں مگر یہ درست نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگ کے دوران میں ایک شخص کے متعلق جو بہت زیادہ زور کے ساتھ جنگ کر رہا تھا فرمایا یہ جہنمی ہے۔ایک صحابی کہتے ہیں میں نے سُنا بعض نے کہا رسول اللہ کی رائے درست نہیں معلوم ہوتی اس قدر جان تو ڑ کر لڑنے والا شخص جہنمی کس طرح ہوسکتا ہے۔اس پر میں اس شخص کے ساتھ ہو لیا تا کہ اُس کا انجام دیکھوں۔وہ اس زور کے ساتھ لڑتا تھا کہ مسلمانوں کے منہ سے مرحبا نکل جاتا تھا۔آخر وہ زخمی ہوا اور مسلمان اُسے جنت کی مبارک دینے لگے۔