خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 149
۱۴۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء خطابات شوری جلد سوم نہیں بھجوائے گئے۔ان کا اور ایک اور صاحب کے سوال کا یہ جواب دیا گیا کہ ۱۹۴۵ء کے فارم بھیجے گئے تھے دوسرے نہیں۔ایک سوال یہ تھا کہ جماعتوں کے پاس مقامی فنڈ تو ہوتا نہیں محصلین کے اخراجات کہاں سے ادا کریں۔یہ بھی قابلِ توجہ بات تھی۔بابو عبد الحمید صاحب نے سوال اٹھایا تھا کہ ایک گزشتہ مجلس مشاورت میں یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ محصلوں کا کام بجٹ تشخیص کرنا ہوگا۔اس کا جواب مختلف پہلوؤں سے خانصاحب نے دینے کی کوشش کی ہے مگر حقیقی جواب کی طرف نہیں آئے۔انہوں نے کہا ہے شہری جماعتیں خود بجٹ بنایا کریں مگر یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسی کل ناظر اعلیٰ نے ایک موقع پر کہی کہ ایک بات خلیفہ نے کہی تھی اور ایک ناظروں نے کہی اور جب ہم نے ناظروں کی بات مان لی تو خلیفہ کی کس طرح مان سکتے تھے۔خانصاحب کو چاہئے تھا کہ یا تو میرے فیصلہ کو رڈ کرتے یا اس کا جواب دیتے۔اگر خلیفہ کی بات واجب العمل ہے تو پھر زید و بکر کا اس کے خلاف خیال لغو ہے۔ورنہ اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ ناظر صاحب جب چاہیں میرے فیصلہ کو رڈ کر دیں اور خود جو چاہیں جاری کر دیں۔پس اگر میرے فیصلہ پر عمل کرنا لازمی ہے تو ضروری ہے کہ اگر کسی فیصلہ کے متعلق کوئی مشکل پیش آئے تو اُس میں ترمیم کی اجازت مجھ سے لی جائے۔یہی فیصلہ جس میں یہ ذکر ہے کہ جماعتوں کے بجٹ محصل تشخیص کیا کریں اس پر شہروں میں عمل کرنا اگر ناممکن تھا تو اس میں ترمیم کرنے کی اجازت مجھ سے لے لیتے کہ شہروں کو مستثنیٰ کر دیا جائے مگر یہ طریق تو اختیار نہ کرنا اور یہ کہنا کہ میری یہ رائے ہے کہ اب اس فیصلہ پر عمل نہیں کیا جا سکتا، خلافت کے نظام کی دھجیاں اُڑانی ہیں۔جس نظام پر چلنے کا حکم دیا جائے یا تو اُس پر عمل کرنا چاہئے یا پھر صفائی کے ساتھ انکار کر دینا چاہئے۔مگر عملی طور پر تو پیغامیوں کا طریق اختیار کرنا اور منہ سے یہ کہنا کہ ہم خلیفہ کے احکام کی اطاعت کرتے ہیں، یہ درست اور مومنانہ طریق نہیں۔اگر خلیفہ کا فیصلہ قابل عمل سمجھا جاتا ہے تو اس پر عمل کرنا چاہئے اور اگر نہیں سمجھا جاتا تو صاف طور پر کہہ دینا چاہئے تا کہ جماعت فیصلہ کرے۔پچھلے دنوں نظارت دعوت و تبلیغ کی دعوت پر میں نے ایک تقریر کی تھی جس ایک انتباہ میں کہا تھا کہ تمام تاریخ صدر انجمن احمدیہ کی بتاتی ہے کہ یا تو خلیفہ کے فیصلہ کو توڑنے کی کوشش کی جاتی ہے یا پھر اس پر عمل کرنا ضروری نہیں سمجھا جاتا۔میں نے اُس وقت