خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 148
خطابات شوری جلد سوم ۱۴۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء تیسرا دن خلیفہ وقت کے فیصلہ کی تعمیل لازمی ہے ناظر صاحب بیت المال محترم خان صاحب مولوی فرزند علی خان صاحب کی طرف سے یہ تجویز پیش ہوئی کہ جو جماعتیں وقت پر اپنے چندہ کا بجٹ بنا کر نہ بھیجیں اُن سے باز پرس کی جائے۔حضور نے اس سلسلہ میں ممبران کی آراء طلب فرمائیں۔چند احباب نے اپنی آراء پیش کیں۔اس کے بعد حضور نے فرمایا : - دوستوں کی آراء اور خانصاحب کا جواب میں نے سُن لیا ہے مگر خانصاحب دوستوں کی تقریروں کے وقت اپنے ماتحتوں سے گفتگو کرنے میں مصروف تھے اس لئے بعض سوالات کے جواب اُنہوں نے نہیں دیئے کیونکہ اُنہوں نے ننے ہی نہیں۔مثلاً میاں عطاء اللہ صاحب نے تین باتیں کہی تھیں اور بیان کیا تھا کہ یہ جو بر وقت بجٹ آمد کی تشخیص نہیں ہو سکتی اس کی تین وجوہ ہو سکتے ہیں۔ایک یہ کہ ایسی جماعتوں میں کوئی خرابی پیدا ہوگئی ہے اور اس کے متعلق کہا کہ اگر اس وجہ سے بجٹ فارم مرتب ہو کر نہیں آتے تو ان کے نام سنا دینا اور ان کے نمائندوں سے باز پرس کرنا اور خرابی پیدا کر دے گا اس لئے چاہئے یہ کہ ایسے ذرائع اختیار کئے جائیں جو مفید نتیجہ پیدا کر سکیں۔یا پھر دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ایسی جماعتیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ ان میں کوئی شخص ایسا نہیں کہ فرصت نکال کر یہ کام جو بہت محنت اور وقت چاہتا ہے کر سکے اگر یہ وجہ ہے تو ایسی جماعت کی امداد کرنے کی صورت پیدا کرنی چاہئے۔لیکن اگر یہ دونوں وجوہ نہیں تو ایک تیسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ بجٹ تشخیص کرانے والوں کی طرف سے تحریک کرنے اور توجہ دلانے میں کمی رہی۔یہ صیغہ کا اپنا نقص ہوگا اس کی اصلاح کرنی چاہئے نہ کہ کوئی تعزیر جاری کرنی چاہئے۔ان باتوں کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔میں نے اُس وقت دیکھا کہ خانصاحب اپنے ماتحتوں سے گفتگو کر رہے تھے۔اگر اسمبلی میں ایسا ہو تو شور پڑ جائے کہ ہماری باتوں کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔ایک صاحب جن کا نام محمد دین ہے اُنہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کو بجٹ فارم