خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 147
خطابات شوری جلد سوم ۱۴۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء مدد کرنی چاہئے۔یتامیٰ اور نابینا تو بہر حال امداد کے مستحق ہیں، باقی لڑکوں کو پرائمری تک تعلیم دلا کر صنعت و حرفت کے کاموں پر لگا دیا جائے۔قادیان میں ہی کئی کارخانے موجود ہیں وہ اگر چاہیں تو اُن میں کام کر کے اپنا گزارہ کر سکتے ہیں۔گزشتہ عرصہ میں ہم نے پورا زور لگایا کہ یہ لڑکے کارخانوں میں جا کر کام کریں مگر چند دنوں کے بعد ہی بھاگ کر واپس آ جاتے اور کہتے کہ ہم سے کام نہیں ہو سکتا۔اس کی وجہ یہی تھی کہ اُن کو مفت روٹی کھانے کی عادت ہو چکی تھی۔بعض ایسے بھی تھے جو بڑے ہو گئے اور اُن کے متعلق یہ سمجھا گیا کہ اب سلسلہ اُن کی تعلیم کا بوجھ زیادہ نہیں اُٹھا سکتا چنانچہ انہیں گھروں میں ملازم کر دیا گیا مگر دس میں سے کولڑ کے بھاگ کر آگئے اور انہوں نے کام کرنا پسند نہ کیا۔کارخانوں والے بھی یہی شکایت کرتے رہے کہ لڑکے محنت کے ساتھ کام نہیں کرتے اور چند دن کے بعد بھاگ جاتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں اس قسم کے نقائص کو دور کرنے کی صرف یہی صورت ہے کہ آئندہ کے لئے ایسے لڑکوں کا دارالشیوخ میں داخلہ روک دیا جائے۔صرف یتامیٰ اور نابینا ہی لئے جائیں یا اُن بیواؤں اور بوڑھوں کو مستحق امداد سمجھا جائے جو کوئی کام نہیں کر سکتے اور امداد کے واقعہ میں مستحق ہوں، ان کے سوا جو طالب علم آئیں اُن کو شامل نہ کیا جائے۔ہاں وہ براہ راست وظیفہ کے لئے صدر انجمن احمدیہ کے پاس درخواست کر سکتے ہیں اس میں کوئی روک نہیں۔صدر انجمن احمد یہ اگر اُن کو مستحق امداد سمجھے گی تو وظیفہ دے دے گی اور اگر نہیں سمجھے گی تو نہیں دے گی۔اسی طرح دار الشیوخ میں داخلہ سے پہلے بھی صدر انجمن احمدیہ کی۔منظوری ضروری ہے تا کہ پورے غور کے بعد اس اہم معاملہ کا فیصلہ ہو۔یہ قاعدہ تو آئندہ کے متعلق ہے اس وقت نظارت ضیافت کی طرف سے ۹۷۷۰ روپیہ کا مطالبہ پیش ہے۔جو دوست اس بات کی تائید میں ہوں کہ ۹۷۷۰ روپیہ 66 نظارت ضیافت کے بجٹ میں منظور کیا جائے وہ کھڑے ہو جائیں۔“ ۳۲۸ دوست کھڑے ہوئے۔اکثریت کے فیصلہ کے مطابق یہ رقم منظور ہے۔آئندہ انجمن موجودہ مساکین فیصلہ 66 دارالشیوخ کا فیصلہ کرے کہ ان میں سے کس کو رکھا جائے اور کس کو نہیں۔“