خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 146
خطابات شوری جلد سوم ۱۴۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء اور اُن کے اخراجات انجمن ادا کرے۔اسی طرح بیواؤں اور بوڑھوں میں سے بعض ایسے ہیں جن کے اخراجات پورے طور پر اور بعض ایسے ہیں جن کے اخراجات ایک حد تک سلسلہ کے ذمہ ہیں مگر ایک حصہ ایسے لڑکوں کا بھی ہے جو طالب علم کی حیثیت سے یہاں آئے، میر صاحب کی انہوں نے خوشامد کی اور چونکہ اُن کو روپیہ لوگوں سے مل جاتا تھا، انہوں نے ان لڑکوں کو دار الشیوخ میں داخل کر لیا۔اس قسم کے لڑکوں میں سے بعض غیر احمدی بھی ہیں جو یہاں آئے اور انہوں نے اُن کو امداد دینی شروع کر دی حالانکہ اگر یہ طلباء براہ راست سلسلہ کے سامنے پیش ہوتے تو غالباً سلسلہ اُن کو وظائف کا مستحق قرار نہ دیتا۔بہر حال جو داخل ہو چکے ہیں اُن کو جلدی نکالنا تو مشکل ہے۔کم سے کم ہمیں اُن کو اس حد تک تعلیم دلا دینی چاہئے کہ اس کے بعد ہم اُن سے یہ کہ سکیں کہ اب تم اپنے گزارہ کے لئے کوئی کارروبار شروع کردو، سلسلہ تمہارا بوجھ اُٹھانے کے لئے تیار نہیں ہے۔اس وقت ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور بغیر اس کے کہ ہمارا ضمیر ہم کو ملامت کرے، ہم اُن کو نکال نہیں سکتے۔لیکن آئندہ کے لئے میں یہ قاعدہ مقرر کرتا ہوں کہ سوائے اُن یتامیٰ کے جو ہماری جماعت سے تعلق رکھتے ہوں اور جن کی پرورش اور امداد بہر حال ہمارے ذمہ ہے، اسی طرح اُن بیواؤں اور بوڑھوں اور نابینوں کے سوا جو کام نہیں کر سکتے اور جو مدد کے حقیقتاً محتاج ہوتے ہیں اس ادارہ میں اور کسی کو شامل نہ کیا جائے مگر ضروری ہوگا کہ ان میں سے ہر ایک کا معاملہ پوری چھان بین کے بعد صدر انجمن احمدیہ کے سامنے پیش ہو، اور صدرانجمن احمد یہ کی منظوری کے بعد اُن کا دارالشیوخ میں داخلہ ہو۔ان کے علاوہ اگر کوئی ایسا طالب علم آئے جو یتیم نہ ہو بلکہ محض غربت کی وجہ سے امداد کا طالب ہو تو اُسے دارالشیوخ میں نہ لیا جائے بلکہ اُس کا معاملہ براہ راست انجمن کے سامنے پیش کیا جائے۔اگر وظائف کی مد میں گنجائش ہو اور صدر انجمن احمد یہ اُس کو واقعی قابل امداد سمجھتی ہو تو وظائف کی مد سے اُس کو امداد دی جاسکتی ہے اور اگر گنجائش نہ ہو یا صدر انجمن احمدیہ کی نگاہ میں وہ وظیفہ کا مستحق نہ ہو تو وہ اُس کے معاملہ کو ر ڈ کر سکتی ہے۔اس قانون کے بعد امید ہے کہ ایسے لوگ اس ادارہ میں شامل نہیں ہو سکیں گے جو امداد کے مستحق نہ ہوں اور جن پر روپیہ خرچ کرنا سلسلہ پر بار ہو مگر اس وقت جولڑ کے اُس میں داخل ہیں، اُن کو میرے نزدیک پرائمری تک تعلیم دلانے میں