خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 145
خطابات شوری جلد سوم اُٹھا نہیں سکتے۔۱۴۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء ނ دوسرا سوال یہ اُٹھایا گیا ہے کہ جن لوگوں کی امداد کی جاتی ہے وہ سب کے سب امداد کے مستحق نہیں ہوتے بلکہ ایک حصہ ایسا بھی ہوتا ہے جو اپنا بوجھ آپ اُٹھا سکتا ہے مگر اس کا بار بھی سلسلہ پر ڈال دیا جاتا ہے۔اس قسم کی مشکلات میر صاحب کے لئے اُن کی زندگی میں ہی پیدا ہو گئی تھیں۔چنانچہ ایک دفعہ غلہ فنڈ میں سے اُنہوں نے امداد کا مطالبہ کیا۔میں نے انہیں کہا کہ آپ کا یہ مطالبہ درست معلوم نہیں ہوتا۔آپ لڑکوں کی فہرست بھجوا دیں تا کہ اُس کو دیکھ کر غور کیا جا سکے کہ کون کون سے واقعہ میں قابلِ امداد ہیں ، اور کون کون سے نہیں، انہوں نے جو فہرست بھجوائی اُس سے بھی مجھ پر یہی اثر تھا کہ جہاں تک یہ خیال ہے کہ غرباء کی پرورش کرنی چاہئے اُس حد تک تو اُن کا مطالبہ درست ہے مگر جہاں تک اس امر کا تعلق ہے کہ سلسلہ اپنی موجودہ مالی مشکلات میں کس کس قسم کے لوگوں کا خرچ برداشت کر سکتا ہے اور کس کس قسم کے لوگوں کا خرچ برداشت نہیں کر سکتا، اس کے لحاظ سے اس میں بعض خامیاں بھی تھیں اور مجھ پر یہ اثر تھا کہ ان طلباء میں سے کافی تعداد ایسے لڑکوں کی ہے کہ اگر وہ براہِ راست سلسلہ احمدیہ کے سامنے مدد کے لئے پیش ہوں تو اُن کا پورا بوجھ اُٹھانے کے لئے سلسلہ قطعاً تیار نہ ہو۔پس جہاں تک چوہدری فتح محمد صاحب کے سوال کا تعلق ہے، میں ان سے پوری طرح متفق ہوں۔میر صاحب مرحوم چونکہ مہمانوں کی خدمت اور اُن کی خاطر تواضع میں بڑے ماہر تھے اور لوگوں سے اُن کے بڑے وسیع تعلقات تھے ، لوگ اُن کی تحریک پر بڑی بڑی رقوم غرباء کی امداد کے لئے بھجوا دیتے تھے اور وہ بھی دلیری سے ایسے تمام اخراجات کو برداشت کرتے ہوئے غرباء کو جمع کرتے جاتے تھے لیکن عقلی طور پر یہ درست طریق نہیں۔اور پھر بعض جگہ اس سے یہ نقصان بھی ہوا کہ بعض خاندان بجائے اس کے کہ اپنے پاؤں پر آپ کھڑا ہونے کی کوشش کرتے ، وہ اِس امداد کی وجہ سے اور بھی سست ہو گئے اور اُنہوں نے جدو جہد سے کام لینا بالکل ترک کر دیا۔اگر ان لوگوں کو نکال دیا جائے تب بھی ایک گروہ ایسا رہ جاتا ہے جس کے اخراجات سلسلہ کو برداشت کرنے پڑیں گے۔یتامیٰ کے متعلق تو میں نے فوری طور پر حکم دے دیا ہے کہ اُن سب کو مدرسہ احمدیہ میں داخل کر دیا جائے