خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 139
خطابات شوری جلد سوم ۱۳۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء ضروری ہے کہ جب کسی سے اس رنگ کی کوئی غلطی ہو تو اُسے، اُس کے افسر اور آڈیٹر تینوں کو ذمہ دار قرار دیا جائے مگر اب یہ صورت ہے کہ جب کسی کا رکن سے غلطی ہو تو افسر اور آڈیٹر ہنس کر کہہ دیتے ہیں کہ اُس سے حساب میں کچھ گڑ بڑ ہو گئی ہے۔حالانکہ جب اُن کا فرض تھا کہ وہ با قاعدہ حساب کو چیک کرتے اور جب کسی جگہ خرابی دیکھتے تو فوراً صد را مجمن احمدیہ میں اُس کی رپورٹ کرتے تو انہوں نے کیوں حساب چیک نہ کیا اور کیوں بد دیانتی کا موقع آنے دیا ؟ کتنی حیرت کی بات ہے کہ مولوی عبدالرحمن صاحب مصری جب یہاں سے گئے تو اُن کے جانے کے بعد جب حسابات کی چیکنگ ہوئی تو اُس وقت معلوم ہوا کہ کئی سال پہلے انجمن نے ایک رقم شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کو اس لئے دی تھی کہ وہ یہ رقم فلاں کو پہنچا دیں مگر اُنہوں نے عرصہ تک وہ رقم اپنے پاس رکھی اور اُس شخص کو نہ پہنچائی۔ان کے جانے کے بعد ہمیں پتہ لگا کہ اِس اِس طرح ہوا ہے۔اگر آڈیٹر حسابات با قاعدگی کے ساتھ چیک کرتا تو یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ اتنے عرصہ تک وہ ایک رقم اپنے پاس ہی رکھ لیتے اور جس شخص کو پہنچانے کے لئے دی گئی تھی اُس کو نہ پہنچاتے۔ہمارے ہاں قاعدہ ہے کہ : - آڈیٹر کا فرض ہو گا کہ کم از کم ہر تیسرے ماہ تمام صیغہ جات و دفاتر صد را مجمن احمدیہ 66 کی مفصل پڑتال کر کے رپورٹ کرے۔( قاعدہ نمبر ۲۳۶)۔“ مگر اس قاعدہ پر کبھی عمل نہیں کیا گیا۔کبھی اس کے مطابق صیغہ جات و دفاتر کا معائنہ نہیں کیا گیا کبھی ہر تین ماہ کے بعد صدرانجمن کو اصل حالات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔پس میرے نزدیک ہمارے آڈیٹر قطعی طور پر کام نہیں کرتے حالانکہ اُن کا فرض ہے کہ وہ با قاعدگی سے تمام دفاتر کا معائنہ کریں اور حساب رکھنے والے محرر کا فرض ہے کہ وہ روزانہ اپنے کیش اور خرچ کو ٹکرائے اور دیکھے کہ کتنا خرچ ہوا اور کتنی رقم اس کے پاس موجود ہے۔جب تک آڈیٹر اور افسر اپنی ذمہ داری کو محسوس نہیں کرتے اُس وقت تک ماتحت بھی اپنے کام میں ہوشیار نہیں ہو سکتے۔بیشک جُرم ماتحت کا ہے مگر اسے دلیری افسر کے رویہ کے بعد ہوتی ہے۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میرا افسر میرے حساب کا معائنہ نہیں کرے گا اس لئے مجھے بھی ضرورت نہیں کہ میں زیادہ فکر کروں۔اسی طرح محاسب کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ آمد وخرچ کا حساب روزانہ مکمل کرائے اور حساب کی کتابوں کو پڑتال کر کے اُن پر