خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 138
خطابات شوری جلد سوم ۱۳۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء ہر روز ایسا کرے تو جس دن کوئی غلطی واقع ہو اُسی دن تحقیق ہو جائے کہ یہ غلطی معافی کے قابل ہے یا سزا کے قابل ہے۔مگر اس بارہ میں ہمارے مرکزی دفاتر اس قدر غفلت اور کوتا ہی سے کام لیتے ہیں کہ تھوڑے ہی دن ہوئے میرے پاس ایک مسل آئی جو ایک شخص کے خلاف تھی اور جس پر الزام یہ تھا کہ اس کے ذمہ بہت سا روپیہ نکلتا تھا۔اس معاملہ کی تحقیق کے دوران میں محاسب سے پوچھا گیا کہ اُس نے کیوں نگرانی نہیں کی جب کہ صدرانجمن احمدیہ کے قواعد میں محاسب کے فرائض میں یہ بات شامل کی گئی ہے کہ ” محاسب حساب کی کتابوں کو روزانہ پڑتال کر کے اُس پر دستخط کرے گا۔‘ ( قاعدہ نمبر ۲۲۱ الف ) جب محاسب سے یہ بات پوچھی گئی تو اُس نے جواب یہ دیا کہ بے شک ایسا قانون ہے مگر ساری کاغذی باتیں ماننے والی تھوڑی ہوتی ہیں۔جہاں اس قسم کی ذہنیت کام کر رہی ہو وہاں اگر ہم کسی محرر کو ڈیوٹی الاؤنس دیں گے تو یقیناً اُس کے جُرم کو اور بھی بڑھانے کا موجب ہوں گے۔میرے نزدیک تمام غلطیوں کی وجہ یہ ہے کہ روپیہ کی آمد اور اُس کے خرچ کو روزانہ ٹکرایا نہیں جاتا، حساب کو باقاعدہ چیک نہیں کیا جاتا اور ہر روز شام کو یہ اطمینان نہیں کیا جاتا که حساب درست ہے، اُس میں کسی قسم کی غلطی نہیں، نہ ماتحت محرر یہ کام کرتے ہیں نہ افسران صیغہ ان کی نگرانی کرتے ہیں اور نہ آڈیٹر دفاتر کا با قاعدہ معائنہ کر کے حساب کو چیک کرنے کی کبھی کوشش کرتے ہیں۔ہمارے ہاں آڈیٹروں کا وجود اور عدم وجود قطعی طور پر برابر ہے اور میں اب تک کسی ایک آڈیٹر کے متعلق بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اُس نے اپنے فرائض کو صحیح طور پر ادا کیا ہے۔جہاں تک روپیہ جمع کرنے کا سوال ہے میں چوہدری برکت علی خاں صاحب کے کام پر بہت ہی خوش ہوں۔انہوں نے تحریک جدید میں حیرت انگیز طور پر روپیہ جمع کرنے کا کام کیا ہے۔مگر جہاں تک آڈیٹر کے کام کا تعلق ہے، اُن کا کام بھی صفر ہے اور باقی آڈیٹروں کا کام بھی صفر ہے۔انہوں نے قطعاً اس ذمہ داری کو محسوس نہیں کیا جو اِس عہدہ پر قائم ہونے کے بعد اُن پر عائد ہوتی تھی۔میرے نزدیک بجائے اس کے کہ کسی محر ر حسابات کو ڈیوٹی الاؤنس دیا جائے اور اس طرح اُسے ایک رنگ میں اس قسم کی غلطیوں پر جرات دلائی جائے