خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 137
خطابات شوری جلد سوم ۱۳۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء تو میں واپس دے دیتا ہوں۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ دیانتداری کا معیار بعض لوگوں کے نزد یک کتنا گر جاتا ہے کہ دوسرے کی چیز وہ اپنے استعمال میں لے آتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے جو کچھ کیا درست اور صحیح کیا ہے۔ڈیوٹی الاؤنس بعض دفعہ انجمن کے زور دینے پر میں نے منظور بھی کیا ہے مگر میرانفس اس پر کبھی مطمئن نہیں ہوا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ گھروں میں روزانہ ہم سے حساب میں غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ہم بازار میں جاتے ہیں، سو دا خریدتے ہیں اور پھر گھر واپس آکر جب حساب کرتے ہیں تو بعض رقوم میں کمی بیشی معلوم ہوتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ ہمارا ذاتی حساب ہوتا ہے اور یہاں اُس شخص کا سوال ہے جسے تنخواہ محض اس بات کی دی جاتی ہے کہ وہ با قاعدگی کے ساتھ حساب رکھے۔اُس کا فرض ہے کہ شام کو دفتر میں سے اُس وقت تک جائے نہیں جب تک اپنے حساب کو درست نہ کر لے۔اگر وہ اس میں غفلت سے کام لیتا ہے، اگر وہ روزانہ شام کے وقت اپنے حساب کو چیک نہیں کرتا تو اس کی ذمہ داری اُسی پر ہے۔اگر ایک شخص حساب کرتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میری میزان ۵۰۰ روپیہ ہونی چاہئے تھی مگر ہوتی ۴۹۶ روپے ہے تو اُس کو فوراً فکر پیدا ہو جائے گا کہ باقی کے چار روپے کہاں گئے۔اور وہ دماغ پر زور دے کر سوچے گا اور حساب کو درست کرنے کی کوشش کرے گا لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتا وہ روزانہ حساب کرنے کی بجائے کئی کئی دن یا کئی کئی ہفتہ کے بعد پڑتال کرتا ہے تو یہ اُس کی اپنی غلطی ہے اور اس غلطی کا خمیازہ اُسے بہر حال بھگتنا پڑے گا۔نپیں بیشک جہاں تک غلطی کا سوال ہے ہر شخص کر سکتا ہے مگر یہاں اور سوال ہے، یہاں سوال یہ ہے کہ ایک شخص کا فرض مقرر کیا گیا ہے کہ وہ روزانہ اپنے حساب کی پڑتال کرے کا پھر کیوں وہ اپنے اس فرض کو ادا نہیں کرتا۔اگر وہ روزانہ اپنی آمد اور خرچ کو ٹکرا تا نہیں، اگر وہ روزانہ اپنے حساب کی پڑتال نہیں کرتا، اگر وہ روزانہ گھر کو جانے سے پہلے اپنے دل میں یہ اطمینان نہیں پاتا کہ اُس کا حساب سو فیصدی درست ہے تو وہ بہر حال بددیانت ہے کیونکہ وہ قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور جب وہ بددیانت ہے تو اُس کی غلطی کا خمیازہ اسے خود ہی بھگتنا پڑے گا۔آخر ایک شخص کے حساب میں دوسو یا چار سو یا پانچ سو کا فرق کیوں پڑ جاتا ہے؟ اسی لئے کہ وہ روزانہ حساب نہیں کرتا۔وہ آمد اور خرچ کو ٹکرا تا نہیں ہے، اگر وہ