خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 136

خطابات شوری جلد سوم ۱۳۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء بدد کر کے قادیان آئے اور اُنہوں نے بہت تھوڑے معاوضہ پر کام کرنا شروع کر دیا مگر ایک رنا شروع کر دیا مگر ایک دفعہ جب حساب کو چیک کیا گیا تو معلوم ہوا کچھ رقم کی کمی ہے۔ اس پر تشحیذ الا ذہان کی مجلس میں یہ سوال پیش ہوا۔ کالج کے سٹوڈنٹس نے اس بات پر زور دینا شروع کر دیا کہ یہ سخت پر زور یہ بد دیانتی ہے اور اس کی سزا دینی چاہئے ۔ میری رائے یہ تھی کہ غلطی ضرور ہے اور بے احتیاطی سے کام لے کر سلسلہ کے اموال کو نقصان پہنچایا گیا ہے مگر جس قسم کی قربانی کر کے یہ شخص قادیان آیا ہے، اُس کو دیکھتے ہوئے اسے دیدہ دانستہ شرارت پر محمول نہیں کیا جا سکتا۔ بد دیانتی تو ہے مگر غفلت اور نادانی کی وجہ سے ہے، شرارت کی وجہ سے یہ بد دیانتی نہیں کی گئی ۔ اس پر ایک اور دوست کھڑے ہوئے اور کہنے لگے میری تو سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ یہ کیا بحث جاری ہے ۔ تم یہ بتاؤ کہ روپیہ کس کا ہے؟ ہم نے کہا خدا کا ۔ وہ کہنے لگے اب بتاؤ تشخیذ الاذہان کی مجلس کو کس کام کے لئے مقرر کیا ہے؟ ہم نے کہا خدا کے کام کے لئے وہ کہنے لگے تو پھر اگر خدا کا بندہ خدا کا مال کھا گیا تو تم ہو کون جو اسے بد دیانت اور خائن قرار دو۔ میں نے اُنہیں بڑا سمجھایا مگر وہ یہی کہتے چلے گئے کہ آپ کی بات درست نہیں ۔ مال بھی خدا کا اور بندہ بھی خدا کا ، میری سمجھ میں تو اور کوئی بات آتی ہی نہیں ۔ تو اس قسم کی ذہنتیں بھی بعض لوگوں کی ہوتی ہیں اور جن کی ذہنیتیں اس قسم کی ہوں اُن کی دیانت کا معیار جس قدر بھی گر جائے کم ہوگا۔ سندھ میں ایک اکاؤنٹنٹ تھا جس نے بہت اچھا کام کیا اور بعض دفعہ انعام حاصل کیا۔ بعد میں اُس کی ایک بد دیانتی ثابت ہوئی ، اُس پر مقدمہ چلا اور وہ قید ہو گیا مگر اس سے پہلے اُس کے اچھے کام پر انعام منظور ہوا ۔ مقدمہ کے دوران میں ہی انعام کا بل منظور ہو کر وہاں پہنچا اور چونکہ اُس وقت اس اکاؤنٹنٹ پر مقدمہ چل رہا تھا اور اُس کی جگہ ایک اور اکا ؤنٹنٹ کام کر رہا تھا ، اِس لئے اُس دوسرے اکا ؤنٹنٹ کو یہ روپے پہنچا دیئے گئے اور اُسے کہہ دیا گیا کہ یہ فلاں کو پہنچا دینا۔ کچھ عرصہ کے بعد چیکنگ میں وہ رقم جو بطور انعام بھجوائی گئی تھی دفتر سے غائب معلوم ہوئی ۔ اس پر نئے اکاؤنٹنٹ سے دریافت کیا گیا تو اُس نے کہا کہ یہ تو اکا ؤنٹنٹ کا انعام تھا چونکہ اُس کی جگہ میں کام کر رہا تھا اس لئے وہ روپے میں نے خرچ کر لئے ۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ روپے مجھے اپنی ذات پر خرچ نہیں کرنے چاہئے تھے