خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 134

خطابات شوری جلد سوم ۱۳۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء اُس میں سے سوا سیر خود رکھ لیتا اور باقی دانہ گھوڑے کو کھلا دیتا۔اس پر لازماً گھوڑے نے دبلا ہونا تھا کیونکہ اسے غذا کم ملتی تھی۔اس پر دوسرا سائیں آیا تو اُس سے پوچھا کہ یہ ڈبلا کیوں ہو رہا ہے؟ اُس نے بتایا کہ بات یہ ہے کہ سو اسیر دانہ میں فروخت کر لیا کرتا ہوں۔وہ کہنے لگا تو اچھا سو اسیر پھر میرے لئے بھی رکھ لیا کرنا ، اب اسے اور زیادہ تھوڑی غذا ملنے لگ گئی اور وہ پہلے سے بھی دُبلا ہو گیا۔رئیس نے ایک تیسرا سائیں مقرر کر دیا۔وہ آیا تو اُس نے بھی وجہ دریافت کر کے کہا کہ سوا سیر میرا حصّہ بھی رکھا لیا کرنا۔اب صرف سو اسیر دانہ گھوڑے کے لئے رہ گیا۔اتنے میں مجھے مقرر کر دیا گیا میں نے پوچھا کہ کیا جھگڑا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ قصہ ہے۔میں نے کہا کہ اب گو صرف سو اسیر دانہ رہ گیا ہے مگر میں اپنا حق نہیں چھوڑ سکتا، میں تو بہر حال اپنا حصہ لے کر رہوں گا۔گھوڑا خواہ مرے یا جئے۔اس طرح میں دیکھتا ہوں جب ایک محافظ تھا تو وہ میرے آگے پیچھے زیادہ رہا کرتا تھا، جب دو ہوئے تو اُن کا آگے پیچھے رہنا کم ہو گیا، چار ہوئے تو اُن میں سے اکثر غائب رہنے لگ گئے ، اب آٹھ ہو جائیں گے تو غالباً کوئی بھی نہیں رہے گا۔درحقیقت غلطی یہ ہے کہ کسی اصول کے ماتحت کام نہیں کیا جاتا۔اگر ایک شخص زیادہ اخلاص کا اظہار کرتا تھا اور وہ چوبیں گھنٹے پہرے کے لئے تیار رہتا تھا تو بجائے اس کے کہ اس کو ڈانٹا جاتا اور اس کو کام سے علیحدہ کیا جاتا اُس کی قدر کرنی چاہئے تھی مگر اخلاص کی قدر کرنے کی بجائے آدمیوں کی تعداد پر کام کا انحصار رکھ لیا گیا ہے حالانکہ خواہ تم آٹھ پہرے دار کر و یا سولہ، بہیں کرو یا چالیس، کام ہمیشہ اخلاص کے نقطہ نگاہ سے ہی ہوگا۔میں نے بتایا ہے کہ ایک پہرے دار میرے ارد گر د زیادہ رہتا تھا، دور کھے گئے تو اس میں کمی آگئی ، چار رکھے گئے تو وہ غائب رہنے لگ گئے۔باقی لڑکیوں کے بورڈنگ کے متعلق جو سوال اُٹھایا گیا ہے اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ اس سال لڑکیوں کے لئے ہوسٹل بن جائے گا بلکہ میں نے یہ کہا تھا کہ اس سال لڑکیوں کے ہوسٹل کے متعلق کوشش کی جائے گی۔اس سلسلہ میں پہلا سوال زمین کا ہے۔عمارت کا سوال تو اس وقت پیدا ہی نہیں ہوتا۔ہم نے مدرسہ ہائی کی عمارت بنانی شروع کی تھی مگر چھت پر آ کر عمارت رُک گئی کیونکہ سامان ہی نہیں ملتا۔