خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 128

خطابات شوری جلد سو ۱۲۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء ترقی کی طرف اپنا قدم بڑھا سکتے ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ ہماری جماعت کے تا جر نمائندے جو اس وقت یہاں موجود ہیں وہ اپنے اپنے مقامات پر واپس جا کر تاجروں کی لسٹیں ہمیں جلد سے جلد بھجوانے کی کوشش کریں گے تاکہ اُن کو منظم کیا جا سکے اور سلسلہ کا وہ حصہ جو تاجروں سے تعلق رکھتا ہے اُس کو بیدار کر کے اُس سے کام لیا جا سکے۔“ ۳۱ / مارچ ۱۹۴۵ء کے دن مجلس مشاورت سب کمیٹی مال بجٹ میں تبدیلی کرسکتی ہے کے دوسرے اجلاس میں حضور نے ممبران کو موقع دیا کہ وہ بجٹ صدر انجمن میں اخراجات کم کرنے کے سلسلہ میں کوئی مفید تجویز پیش کرنا چاہتے ہوں تو پیش کریں۔اس پر چند احباب نے اپنی تجاویز پیش کیں۔ان پر تبصرہ کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:- ”میرے نزدیک اس وقت دوستوں سے یہ غلطی ہوئی ہے کہ جب اُنہیں یہ کہا گیا تھا کہ اخراجات کے متعلق اگر کسی نے کوئی تفصیلی رائے دینی ہو تو دے دیں اُس وقت تو انہوں نے کوئی رائے نہ دی اور اب اس کے متعلق رائے دی جا رہی ہے جبکہ اور سوال پیش ہے۔جو تجاویز اس وقت دوستوں کی طرف سے پیش کی گئی ہیں وہ اخراجات میں کمی کرنے کے متعلق نہیں بلکہ زیادتی کے متعلق ہیں حالانکہ اصل سوال یہ پیش تھا کہ اگر کسی کے نزدیک کوئی خرچ ناجائز ہو یا کسی رقم میں کمی کرنی ضروری ہو تو وہ اپنی رائے کا اظہار کر دیں۔یہ سوال نہیں تھا کہ وہ اخراجات کو بڑھانے کی تجاویز پیش کرنی شروع کر دیں۔یہ غلطی ہے جو دوستوں سے اس دفعہ ہوئی ہے کہ جب اخراجات کے متعلق تفصیلی بحث کا وقت دیا گیا تھا اُس وقت تو وہ خاموش رہے اور اب جبکہ اور سوال پیش ہے وہ زیادتی کے متعلق اپنی آراء کا اظہار کرنے لگ گئے۔بہر حال آئندہ کے متعلق میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ سب کمیٹی بیت المال کو ایسی تمام تجاویز پر غور کر لینا چاہئے جو اخراجات میں زیادتی کرنے کے متعلق اس کے سامنے پیش کی جائیں۔مجھے بتایا گیا ہے کہ سب کمیٹی نے اس دفعہ کہا کہ ہمیں خرچ کو بڑھانے کا اختیار نہیں ہے مگر میرے نزدیک یہ درست نہیں۔سب کمیٹی کو خرچ کے بڑھانے کا اختیار ہے اور آئندہ کے متعلق یہ میرا فیصلہ ہے کہ اسے ایسی تمام تجاویز پر غور کر لینا چاہئے