خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 127
خطابات شوری جلد سوم ۱۲۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء ایک پہلی تجویز ہے کہ جب میں نے ریز رو فنڈ قائم کیا تھا کہ غیر احمدی دوستوں، رشتہ داروں اور دوسرے لوگوں سے اس بارہ میں چندہ لے لیا جائے کیونکہ جماعت کی ایک خاص رقم دوسروں پر خرچ ہوتی ہے اور اُن کی ترقی سے تعلق رکھنے والے کاموں میں ہم ہمیشہ حصہ لیتے رہتے ہیں۔پس کوئی وجہ نہیں کہ اُن سے چندہ نہ لیا جائے۔تعجب ہے کہ میری اس قدر واضح ہدایت کے باوجود جماعت نے ابھی تک اس طرف توجہ نہیں کی حالانکہ جس وقت یہ تجویز ہوئی تھی اُس وقت ایک دوست نے کھڑے ہو کر کہا تھا کہ ایک لاکھ روپیہ تو صرف میں ہی جمع کردوں گا ، مگر بعد میں اُن کی طرف سے ایک پیسہ بھی نہ آیا حالانکہ میں نے تشریح بھی کر دی تھی کہ یہ روپیہ اسی قسم کے کاموں پر خرچ کیا جائے گا جس قسم کے کاموں پر ریڈ کر اس سوسائٹیاں روپیہ خرچ کیا کرتی ہیں۔مثلاً کہیں زلزلہ آ گیا تو احمدی والنٹیئروں کو وہاں بھجوا دیا یا قحط پڑا تو اس روپیہ سے لوگوں کی مدد کر دی گئی یا کہیں بیماری پھیلی تو یہ روپیہ لوگوں کے علاج پر صرف کر دیا گیا۔غرض رفاہِ عام کے وہ کام جن سے اسلام کا اعزاز بڑھتا ہے، ہم اس روپیہ سے سرانجام دیں گے۔اور میں نے بتایا تھا کہ جب ہم نے یہ روپیہ دوسرے لوگوں پر ہی خرچ کرنا ہے تو اُن سے چندہ مانگنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ہماری جماعت کو دلیری کے ساتھ اُن سے یہ چندہ مانگنا چاہئے اور انہیں کہنا چاہئے کہ تمہارے ہاں تو ایسی کوئی سکیم نہیں جس سے غرباء اور مصیبت زدوں کی امداد کی جائے لیکن ہندوؤں اور عیسائیوں کے ہاں ایسے فنڈز موجود ہیں اور وہ مصیبت زدوں کی امداد کے لئے ہر جگہ فوراً پہنچ جاتے ہیں۔تمہیں بھی اپنے اندر بیداری پیدا کرنی چاہئے اور رفاہ عام کے کاموں کے لئے روپیہ صرف کرنا چاہئے تاکہ مسلمانوں کا اعزاز قائم ہو اور لوگوں کو اسلام کی طرف توجہ پیدا ہو۔اگر اس رنگ میں کام کیا جائے اور مسلمانوں کی غیرت کو بھڑ کا یا جائے تو اُن کے اندر بھی کام کرنے کی روح پیدا ہو جائے اور ہمیں بھی فائدہ پہنچ جائے۔وہ رفاہِ عام کے کاموں کے لئے روپیہ صرف کر کے نہ صرف ثواب حاصل کر سکتے ہیں بلکہ قربانی کی عادت بھی اُن میں پیدا ہوسکتی ہے۔اور قربانی کی روح ہی ہے جو کسی قوم کو کامیاب کیا کرتی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ آمد بڑھانے کی تجاویز کا ایک کافی مواد جمع ہو گیا ہے جس۔نظارت بیت المال بہت کچھ فائدہ اُٹھا سکتی ہے۔اسی طرح تاجر پیشہ لوگ اگر چاہیں تو وہ