خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 123

خطابات شوری جلد سوم ۱۲۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء بھی ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو جانی چاہئے۔اب آخری پارہ کی تفسیر شائع ہونے والی ہے جس طرح پچھلی تفسیر کے بعد میں ۵ کی بجائے ۲۵ روپے دینے پڑے اسی طرح اگر اب دوستوں نے اس کے لئے دس بارہ روپے خرچ نہ کئے تو بعد میں پچاس بلکہ ممکن ہے سو سو روپیہ بھی خرچ کرنا پڑے اور پھر بھی مشکل سے حاصل ہو۔پس آج ہی تمام دوست اپنے اپنے دلوں میں اس کی خریداری کے متعلق فیصلہ کر لیں۔یہ کتاب انشاء اللہ جلد شائع ہو جائے گی۔تین ربع کی تفسیر ہو چکی ہے صرف ایک ربع کی تفسیر رہتی ہے اور چونکہ اب اپنا پریس قائم ہو چکا ہے اس لئے زور دینے کے بعد یہ کتاب انشاء اللہ جلد چھپ جائے گی۔آج ڈاک میں ٹورا مشرقی افریقہ کی احمد یہ مسجد کی جو حال ہی میں تعمیر کی گئی ہے تصویر ملی ہے جو بہت ہی خوبصورت ہے۔دوستوں کو دُور سے نظر تو نہیں آئے گی مگر میں دکھا دیتا ہوں۔اٹالین آرٹ کی بنی ہوئی ہے۔گورنمنٹ نے اس مسجد کی تعمیر کے لئے اٹلی کے قیدی 66 ہماری جماعت کو دیئے تھے۔“ اس موقع پر حضور نے یہ تصویر دوستوں کو دکھائی اور فرمایا: - دوست ایک اور تصویر بھی مصر سے آئی ہے۔یہ تصویر بظاہر معمولی معلوم ہوتی ہے مگر اس کے پیچھے ایک ایسی تحریر تھی کہ پہلے تو میں دینی ذوقی طور پر تصویر دیکھ رہا تھا پھر جو اچانک اُس تحریر پر نظر پڑی تو فوراً میری آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔اس تصویر میں ایک طرف ایک مصری دوست بیٹھے ہیں، دوسری طرف ایک انگریز نو مسلم ہیں اور درمیان میں کوئی بچہ ہے پہلے تو میں نے اس تصویر کو دیکھا تو میں نے کہا یہ ہمارا تو مسلم انگریز بھائی ہے۔یہ ہمارا مصری ہے اور درمیان میں ان میں سے کسی کا بچہ بیٹھا ہے۔مگر میں نے پیچھے نظر ڈالی تو مجھے قرآن کریم کی یہ آیت لکھی ہوئی نظر آئی۔جسے پڑھتے ہی فوراً میری آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ واذكرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاء فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بنعمته إخوانا یا مصری لوگوں کو انگریزوں سے شدید دشمنی ہے۔بظاہر اُن کی آپس میں صلح معلوم ہوتی ہے مگر در حقیقت مصریوں کی گھٹی میں انگریزوں کی دشمنی ہے۔ہمارے مصر کے احمدی نوجوان زیادہ تر ایسی ہی جماعتوں میں سے آئے ہیں جو سیاسی تھیں اور انگریزوں سے شدید بغض رکھتی تھیں۔اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ کسی وقت میں