خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 119
خطابات شوری جلد سوم ۱۱۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء قائم کر دیں تو اُس سے ایک لاکھ ۲۵ ہزار روپیہ کی آمد پیدا ہو جائے گی جس سے ہنگامی اخراجات کو پورا کیا جا سکے گا اور جن دنوں میں اس قسم کے اخراجات نہیں ہوں گے یہ آمد پھر ریز رو فنڈ میں جمع ہوتی رہے گی۔اس طرح ہم اُمید کر سکتے ہیں کہ یہ ۲۵ لاکھ کا ریز روفنڈ کو دس سال میں اپنی آمد سے ہی ۵۰ لاکھ تک پہنچ جائے گا اور پچاس لاکھ روپیہ سے ہم اڑھائی لاکھ روپیہ سالانہ آمد پیدا کر سکیں گے جو خطرہ کے وقت سلسلہ کے کام آئے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہمارے تبلیغی کام میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ترقی ہو رہی ہے۔چار مبلغ تحریک جدید کے ماتحت غیر ممالک میں جاچکے ہیں، ایک جانے کے لئے تیار ہے اور دس مبلغین کو پاسپورٹ مل گئے ہیں اور اُمید ہے کہ تین چار ماہ میں وہ روانہ ہوسکیں گے۔میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ کالج کے متعلق جہاں اس سال کا بجٹ پیش ہے وہاں یہ امر ہمیں اپنے مد نظر رکھنا چاہئے کہ کالج کو صحیح طور پر چلانے کے لئے ہمیں دو لاکھ روپیہ کی اور ضرورت ہوگی۔اس کے بغیر ہم بی۔اے اور ایم۔اے کلاسز نہیں کھول سکتے۔گزشتہ سال میں نے کالج کے لئے دو لاکھ روپیہ چندہ کی تحریک کی تھی مگر بوجہ اس کے کہ اُن دنوں اور بھی بہت سی تحریکات جاری تھیں، جماعت اس کی طرف پورے طور پر توجہ نہ کر سکی۔پھر بھی جماعت نے ایک لاکھ چھپن ہزار کے وعدے کئے جس میں سے ایک لاکھ چودہ ہزار روپیہ آچکا ہے اور بیالیس ہزار کی وصولی باقی ہے مگر اس کے باوجود ہمیں دو لاکھ روپیہ کی ضرورت ہوگی۔اس سال کا لج والوں نے نئی جماعت کے سائنس کے اخراجات کے لئے پندرہ ہزار روپیہ مانگا ہے۔اگر بی۔اے کلاسز کھولی جائیں تو چھپیں تیس ہزار روپیہ کی ضرورت ہوگی اور بی۔ایس سی کلاسز کے لئے کم سے کم ایک لاکھ روپیہ کی ضرورت ہوگی اور اگر میڈیکل کلاس کھولی جائے تو پچاس ہزار روپیہ اس کے لئے ضروری ہوگا۔بہر حال کالج کے لئے ہمیں مزید دو لاکھ روپیہ کی ضرورت ہے۔کچھ اس کی عمارت کے لئے ، کچھ سائنس کے سامانوں کے لئے اور کچھ نئی کلاسز کے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے۔اس صورت میں ہم بی۔اے، بی ایس سی کھول سکیں گے۔اس کے بعد ایم۔اے، ایم۔ایس۔سی کا سوال رہ جائے گا۔اسی طرح کالج کے متعلق ہمیں یہ امر بھی مد نظر رکھنا چاہئے کہ اُس کا دس لاکھ ریز روفنڈ قائم ہو تا کہ اُس سے پچاس ہزار روپیہ سالانہ کی آمد پیدا